سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد آصف نے 2010 ء کے لارڈز ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل پر اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے۔
ایک ویڈیو میں اینکر آفتاب اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے، آصف نے کہا کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہوئی تھی اور شاید انہوں نے کبھی کسی کا دل دکھایا ہو یا نافرمانی کی ہو، جس کی اللہ نے انہیں سزا دی۔
سزا کا اعتراف:
محمد آصف نے کہا کہ انہیں اسی دنیا میں سزا مل گئی اور اس پر شکر ادا کیا۔ اینکر کے سوال پر، آصف نے وضاحت کی کہ انہوں نے صرف دو نو بال کروانے پر معاملہ فکس کیا تھا نہ کہ میچ ہارنے کے لیے۔ اس کے باوجود، ان کا کیریئر تباہ ہوگیا اور آگے بڑھنے کا موقع ضائع ہوگیا۔ بعض اچھے بیٹسمینوں کا کہنا تھا کہ آصف پر پابندی لگنا اچھا ہوا کیونکہ ان کی کارکردگی سے وہ پریشان تھے۔
قوم سے معافی:
محمد آصف نے کہا کہ انہوں نے اللہ اور قوم سے معافی مانگی ہے، مگر کچھ لوگ اب بھی انہیں معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی غلطیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور ان سے سیکھنے کی بات کی۔
ٹی 20 ورلڈ کپ پر تبصرہ:
ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 ءپر بات کرتے ہوئے محمد آصف نے کہا کہ اس میں باؤلرز کے لیے سازگار پچز بنائی گئی تھیں، جس پر بیٹسمینوں کو کھیلنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، وہ بلے باز کامیاب رہے جنہوں نے صبر سے کھیل کر زیادہ وقت گزارا۔
دیگر ٹیموں پر ردعمل:
محمد آصف نے کہا کہ دوسرے ممالک نے پچز کی شکایت نہیں کی، جبکہ پاکستانی ٹیم نے اس پر توجیہہ پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کے کوچ ورلڈ کپ سے کچھ عرصہ قبل ہی مقرر کیے گئے تھے، جبکہ بھارت میں طویل عرصے سے محنت ہو رہی تھی اور ان کے کھلاڑیوں کو معلوم تھا کہ کون کھیلیں گے۔
بھارت کی تیاری:
محمد آصف نے بھارت کی تیاری کی تعریف کی اور کہا کہ اگر بھارت نے اپنی بی ٹیم پر بھی اتنی ہی محنت کی ہوتی تو وہ بھی ٹورنامنٹ جیت جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کی تیاری اور کوچنگ پر جو محنت بھارت نے کی، وہ قابل تعریف ہے۔
محمد آصف نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل اور ٹی 20 ورلڈ کپ پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اور کھیل میں محنت اور تیاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی باتیں کھیل سے وابستہ افراد کے لیے سبق آموز ثابت ہوں گی