اڈیالہ جیل میں قید ایک حوالاتی، شاویز بھٹی کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا ہے۔
مقدمے کی تفصیلات:
پولیس تھانہ صدربیرونی نے حوالاتی شاویز بھٹی کے والد، شاہد نثار، کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے کے مطابق، شاویز بھٹی کو 10 جون کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کیا گیا تھا۔
جیل میں لڑائی اور مقدمہ:
شاویز بھٹی کی جیل میں صائم نامی حوالاتی سے لڑائی ہوئی تھی۔ جیل انتظامیہ نے 28 جون کو شاویز بھٹی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
والد کا بیان:
شاویز بھٹی کے والد نے کہا کہ جیل انتظامیہ نے فون کال کے ذریعے انہیں بتایا کہ ان کے بیٹے کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ بیٹے کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچایا گیا، لیکن وہ پہلے ہی انتقال کر چکا تھا۔
پچھلی ملاقات:
شاہد نثار نے بتایا کہ پچھلی ملاقات کے دوران ان کے بیٹے نے کہا تھا کہ اسے قید خانے کے ایک علیحدہ سیل میں بند کیا گیا ہے۔ شاہد نثار کا الزام ہے کہ جیل انتظامیہ نے ان کے بیٹے کو مخالفین کے ساتھ مل کر قتل کیا ہے۔
مزید تحقیقات:
پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ واقعے کی تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔ شاویز بھٹی کی موت کے حقائق سامنے لانے کے لیے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔
جیل انتظامیہ کا موقف:
جیل انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، اور نہ ہی انہوں نے شاویز بھٹی کی موت کے حوالے سے کوئی وضاحت دی ہے۔
یہ واقعہ اڈیالہ جیل کی سیکیورٹی اور انتظامی معاملات پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ پولیس کی تحقیقات سے ہی معلوم ہو سکے گا کہ اصل حقائق کیا ہیں اور کون اس قتل کا ذمہ دار ہے۔