یہ تو پوری دنیا میں مانا جاتا ہے کہ افواجِ پاکستان کے بہادرجوان ہر وقت وطن پہ جان نثار کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔
یہ بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے جب پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ایک بہادر پائلٹ کے بارے میں میجر (ر) عامر مشتاق چیمہ اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر نے چھم کے علاقہ میں ایک بھارتی چیک پوسٹ پر اپنا ہیلی کاپٹر لینڈ کیا،وہ ایک لائٹ مشین گن کا بھارتی مورچہ تھا جہاں کچھ سکھ فوجی حفاظت کیلئے تعینات تھے۔
لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر نے اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے ایک بہترین حکمتِ عملی اپنائی اور بھارتی فوجیوں کو چکما دیا کہ ان سب کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے،لہذا سب فوجی ہتھیار ڈال دیں،بھارتی افواج نے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنے ہتھیار ڈال دئیے۔
لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر نے مورچے میں موجود فوجیوں کو یرغمال بنایا اور پدھار کے مقام پر پاک فوج کے میس پہنچا دیا۔ بعد ازاں ایسی حاضری دماغی پر لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر کو اُن کی بہادری پر ستارہ جرات سے نوازا گیا۔پاک فوج کی تاریخ بہادری کی ایسی بہت سہی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔
خیال رہے کہ لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر نے آگے چل کر میجر جنرل کے عہدے تک ترقی پائی،لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر 1975 سے 1977 تک صوبہ کے پی کے گورنر بھی رہے، لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر 1993 سے 1996 تک وفاقی وزیرِداخلہ بھی رہے