اپوزیشن رکن رانا شہباز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ممکنہ رہائی کے حوالے سے اہم پیشگوئی کی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان جولائی 2024ءکے پہلے ہفتے میں رہا ہو سکتے ہیں۔
رانا شہباز نے میڈیا کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ چودھری پرویز الٰہی کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور وہ جلد ہی پنجاب میں پارٹی کی قیادت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پرویز الٰہی کی کوئی ڈیل یا رعایت نہیں ہوئی اور وہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں، جیسا کہ وہ پہلے تھے۔
رانا شہباز نے بتایا کہ پرویز الٰہی کی فزیو تھراپی مکمل ہو چکی ہے اور ان کی پانچ ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ ان کو کئی بار پولیس اور کئی بار نامعلوم افراد نے گرفتار کیا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بانی تحریک انصاف اور بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل سے رہائی کے ایک قدم اور قریب ہو گئے ہیں۔
دوران عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ عدالت نے اعلان کیا ہے کہ فیصلہ 27 جون کو دوپہر 3 بجے سنایا جائے گا اور مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت کی منظوری کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے احکامات 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں جاری کیے گئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس میں عمران خان کی ضمانت منظور کی تھی، تاہم بانی پی ٹی آئی عدت کیس میں سزا یافتہ ہونے کے باعث جیل میں ہی رہیں گے۔
رانا شہباز نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ عمران خان جلد ہی رہائی پا کر اپنی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پارٹی کے لیے ایک نیا باب کھولے گی اور ملک کی سیاسی صورتحال میں اہم تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ رانا شہباز نے مزید کہا کہ پارٹی کے تمام رہنما اور کارکنان بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اور ان کی رہائی کے منتظر ہیں۔
یہ حالات و واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے ملکی سیاست میں کافی دلچسپی اور تناؤ موجود ہے۔
تمام نظریں عدالتی فیصلے پر لگی ہیں جو کہ 27 جون کو سنایا جائے گا اور اس کے بعد کی صورتحال ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
پرویز الٰہی کی صحت میں بہتری اور پارٹی کی قیادت کی دوبارہ ذمہ داری لینے کی خبروں نے پارٹی کارکنان میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔
ان حالات میں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پرویز الٰہی کی قیادت ملک کی سیاسی منظرنامے میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔