بشری بی بی نے کہا ہے کہ نیب کیسز سے نہیں ڈرتی، پہلے بھی اتنے کیسز بنائے ایک اور بنا لیا ہے، اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی ہوں۔
بانی پاکستان تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل میں اپنی گرفتاری سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ آپ کی رہائی ہوگئی ہے، جب باہر آئی تو کہا گیا کہ آپ کو گیٹ نمبر 3 سے رہا کر رہے ہیں۔
بشریٰ بی بی نے کہا کہ جب اندرونی گیٹ سے باہر نکلی تو آگے اندھیرے میں نیب ٹیم کھڑی تھی، انہوں نے مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی، جس پر کہا کہ گرفتاری دینے کو تیار ہوں، پہلے بھی توشہ خانہ کیس میں از خود گرفتاری دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ میرا لیگل پراسیس مکمل کریں پھر مین گیٹ پہ گرفتاری دوں گی جہاں میڈیا بھی موجود ہوگا۔
دریں اثناء عمران خان نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کے نئے کیس کی سماعت کے آغاز پر میڈیا کی غیر موجودگی پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ اگر میڈیا نہیں آتا تو میں عدالت سے واک آوٹ کر جاوں گا۔
عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے اعتراض پر میڈیا نمائندگان کو جیل کے اندر بلانے کا حکم دیا جس کے سماعت کا آغاز ہوا۔
عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے میں صرف اپنی بیوی کی بات کرتا ہوں، اس کو دوبارہ گرفتار کر کے بہت غلط کیا ہے، پہلے آفتاب سلطان اور دیگر لوگ مستعفی ہوئے کیونکہ یہ غلط فیصلے کرانا چاہتے تھے، دوسرا کیس اس لیے بنایا ہے کیونکہ ان کو پتا چل گیا ہے پہلا سیٹ ہمارے پاس ہے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کو رات 12 بجے بتایا جاتا ہے صبح نیا کیس لگے گا، نیب والے روبوٹ ہیں، ان کو تنخواہ دے کر جو مرضی کام کروالیں۔
نیب سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ چئیرمین نیب اور طوائفہ میں کوئی فرق نہیں، طوائف جسم فروش کرتی ہے اس نے ضمیر فروش کر دیا ہے، جج صاحب میری بیوی کا توشہ خانہ سے کچھ لینا دینا نہیں، جیل میں چار مرتبہ قرآن پڑھا ہے اس میں ججز پر اللہ نے بہت ذمہ داری ڈالی ہے۔