تاریخی تاج محل میں ایک بار پھر متنازع واقعہ پیش آیا، جب ایک خاتون نے گنگا جل گنبد پر چڑھایا اور ہندو جھنڈا(بھگوا کپڑا) لہرایا۔
یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا جب اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کی رکن میرا راٹھوڑ نے اس عمل کو انجام دیا۔
میرا راٹھوڑ نے دعویٰ کیا کہ وہ کاسگنج کے سوروں سے کانوڑ لے کر آئی تھی اور اسی گنگا جل کو تاج محل پر چڑھایا۔
اس دوران جب اس نے بھگوا رنگ کی چنری لہرائی، تو وہاں موجود سی آئی ایس ایف کے سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے فوری طور پر گرفتار کر لیا اور پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لے لیا۔
ایک افسر نے بتایا کہ تقریباً دوپہر 12 بجے میرا راٹھوڑ تاج محل میں داخل ہوئی اور اپنے کپڑوں میں چھپا کر لائے گئے بھگوا کپڑے کو تاج محل کے بڑے گنبد کے پاس جا کر لہرایا۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے پکڑ لیا۔ فی الحال میرا راٹھوڑ سے پوچھ گچھ کی جاری ہے اور مزید تحقیقات کے بعد اسے پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو دن قبل دو نوجوانوں نے تاج محل میں اوم کا اسٹیکر چپکا کر گنگا جل چڑھایا تھا، جس کے بعد انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ان نوجوانوں کی شناخت اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے کارکنان شیام اور ونیش کے نام سے ہوئی تھی۔
تاج محل میں مذہبی رسومات ادا کرنے اور بھگوا کپڑا لہرانے کے یہ واقعات سیکیورٹی اور مذہبی حساسیت کے حوالے سے چیلنج بن چکے ہیں۔
ان واقعات کے بعد سی آئی ایس ایف نے تاج محل کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔