کرکٹ میں کئی ایسے باؤلرز آئے جن کی گیندیں راکٹ کی طرح تیز تھیں اور بلے بازوں کے لیے ان کا سامنا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔
کرکٹ کی تاریخ میں ان تیز گیند بازوں کا خوف اس وقت کے بلے بازوں میں موجود تھا جس کی وجہ سے وہ کامیاب باؤلر بنے۔
رفتار کے لحاظ سے ان گیند بازوں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ اس فہرست میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے تیز رفتاری سے گیند پھینکی ہے۔
شعیب اختر:
اس فہرست میں پہلے نمبر پر راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور شعیب اختر کا نام موجود ہے۔ اس لیجنڈ نے کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین گیند بازی کی۔ آج تک کوئی باؤلر شعیب اختر کا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ جو اس ریکارڈ کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔ شعیب اختر نے پاکستان کی جانب سے 46 ٹیسٹ میچوں میں 25.7 کی اوسط سے 178 وکٹیں حاصل کیں۔ جبکہ 163 ون ڈے میچوں میں انہوں نے 24.98 کی اوسط سے 247 وکٹیں حاصل کیں۔
شعیب اختر نے 15 ٹی ٹونٹی میچوں میں 22.74 کی اوسط سے 19 وکٹیں حاصل کیں۔ اختر نے 2003 ء کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف اپنے کیریئر کی تیز ترین گیند پھینکی تھی۔ جس کی رفتار 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس گیند باز نے اپنے کیریئر میں کئی بار 150 کا ہندسہ عبور کیا تھا۔ جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ بہت مشکل ہے۔ آج وہ ایک لیجنڈری باؤلر ہیں۔
بریٹ لی:
تیز ترین گیند باز کہلانے والے بریٹ لی کا نام اس فہرست میں نمبر 2 پر ہے۔ بریٹ لی کا ایک فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے کیریئر اچھا اور شاندار رہا۔ ان کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس گیند باز کا خوف بلے بازوں میں کیوں نظر آرہا تھا۔ ان کی رفتار بہت تیز تھی۔
بریٹ لی نے آسٹریلیا کی جانب سے 76 ٹیسٹ میچوں میں 30.82 کی اوسط سے 310 وکٹیں حاصل کیں۔ جبکہ 221 ون ڈے میچوں میں بریٹ لی نے 23.36 کی اوسط سے 380 وکٹیں حاصل کیں۔
ان کے ساتھ انہوں نے 25 ٹی ٹونٹی میچوں میں 25.5 کی اوسط سے 28 وکٹیں حاصل کیں۔ لی نے اپنے کیریئر کی تیز ترین گیند 2005 ءمیں نیوزی لینڈ کے خلاف برسبین میں کی تھی۔ جس کی رفتار 161.1 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
بریٹ لی کرکٹ کی تاریخ کے شاندار باؤلرز کی فہرست میں شامل کھلاڑی ہیں۔ ان کے اعداد و شمار ہی اس کی عظمت کی داستان بیان کرتے ہیں۔
شان ٹیٹ:
رفتار کے لحاظ سے اس کھلاڑی میں کوئی بریک نہیں لگ رہی تھی۔ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر آسٹریلیا کے شان ٹیٹ کا نام موجود ہے اس فاسٹ باؤلر کا بھی بہت طویل کریئر نہیں تھا لیکن انہوں نے اپنے مختصر کریئر میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جو ان کے بارے میں واضح طور پر بتاتا ہے۔
وہ محدود اوورز کے فارمیٹ میں شاندار بولر تھے۔ شان ٹیٹ نے آسٹریلیا کے لیے 3 ٹیسٹ میچوں میں 60.4 کی اوسط سے صرف 5 وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن 35 ون ڈے میچوں میں انہوں نے 23.56 کی اوسط سے 62 وکٹیں حاصل کیں۔
وہیں 21 ٹی ٹونٹی میچوں میں بھی انہوں نے 21.04 کی بہترین اوسط سے 28 وکٹیں حاصل کیں۔ ٹیٹ نے انگلینڈ کے خلاف اپنے کیریئر کی تیز ترین گیند پھینکی۔ جو 161.1 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
انجری کے باعث اس کھلاڑی کا کیریئر آگے نہیں بڑھ سکا اور اسی وجہ سے وہ اپنی فارم کے ساتھ جدوجہد کرتے نظر آئے۔ ٹیٹ بہت باصلاحیت باؤلر تھے۔ صرف 28 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے لی۔
جیف تھامسن :
لیجنڈری آسٹریلوی فاسٹ باؤلر جیف تھامسن کا نام اس فہرست میں چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ اس کھلاڑی نے اپنی باؤلنگ سے برسوں تک بلے بازوں کو پریشان کر رکھا تھا۔
انہوں نے کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کرایا ہے۔ جیف کے ریکارڈ بھی بہترین ہیں۔
جیف تھامسن نے آسٹریلوی ٹیم کے لیے 51 ٹیسٹ میچوں میں 28 کی اوسط سے 200 وکٹیں حاصل کیں۔ جب کہ اپنے 50 ون ڈے میچوں کے کیریئر میں انہوں نے 35.31 کی اوسط سے 55 وکٹیں حاصل کیں۔
وہ اپنی رفتار کے لیے مشہور تھے۔ تھامسن نے 1975 ء میں پرتھ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے کیرئیر کی تیز ترین گیند بازی کی تھی۔ جب انہوں نے 160.6 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی۔ آج بھی ان کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ یہ کھلاڑی لاجواب تھا۔
مچل اسٹارک:
اس وقت آسٹریلیا کی ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر مچل اسٹارک کا نام اس فہرست میں شامل ہے۔ جسے بہت شاندار کہا جا سکتا ہے۔ وہ اس فہرست میں جگہ بنانے والے واحد موجودہ تیز گیند باز ہیں۔ جو اپنے آپ میں ایک شاندار کارنامہ ہے۔
مچل اسٹارک نے اپنے کیرئیر میں اب تک آسٹریلیا کے لیے 89 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جس میں انہوں نے 27.74 کی اوسط سے 358 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ مچل اسٹارک نے 91 ون ڈے میچوں میں 22.97 کی اوسط سے 236 اور 65 ٹی ٹونٹی میچوں میں 23.81 کی اوسط سے 79 وکٹیں حاصل کیں۔
مچل اسٹارک نے 2015ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے کیرئیر کی تیز ترین گیند کروائی تھی۔ جب مچل اسٹارک نے 160.4 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکی۔ اسٹارک اب بھی کھیل رہے ہیں۔