سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) سے تعلق رکھنے والے رہنما شفقت محمود سیاست کو خیرباد کہہ گئے، ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر جاری بیان میں شفقت محمود نے کہا ہے کہ بہت سوچ و بچار کے بعد سیاست چھوڑنے اور سیاسی کیریئر سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹویٹ میں شفقت محمود نے کہا کہ بغیر کسی دباؤ کے سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، کسی دوسری پارٹی میں نہیں جارہا، صرف پاکستان تحریک انصاف نہیں بلکہ یہ اعلان سیاست سے علیحدگی کا ہے۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ 34 سال قبل سرکاری نوکری سے استعفیٰ دے کر سیاست شروع کی تھی، مزید اپنے مستقبل سے متعلق شفقت محمود کا کہنا تھا کہ باقی عمر تحریر اور تدریس کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ کافی سوچنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچا کہ اب سیاست سے ریٹائر ہونے کا وقت ہوگیا ہے، اس فیصلے کا تعلق عمر اور وقت کے تقاضے سے ہے، نوجوانوں کو سپورٹ کرتے ہوئے شفقت محمود نے لکھا کہ میں ان سے مکمل اتفاق کرتا ہوں جو کہتے ہیں کے سیاست میں نوجوانوں کو آگے آنا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ سیاست کے اس سفر کے دوران بہت سی مشکلات اور نشیب و فراز آئے، سینیٹ اور نیشنل اسمبلی کا ممبر اور وفاقی و صوبائی وزیر رہا، جیل بھی کاٹنی پڑی، مجھے اطمینان ہے کے میں نے ہمیشہ اپنی ذمّہ داریاں ایمانداری سے پوری کی ہیں اور جس عہدے پر فائز رہا اس کو ایک فرض سمجھ کے نبھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر تعلیم پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ یکساں نصاب بنایا اور کووڈ کے مشکل وقت میں تعلیمی نظام کامیابی سے سنبھالا ، میں چیئرمین تحریک انصاف جناب عمران خان صاحب کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے یہ خدمت کا موقع فراہم کیا۔
خیال رہے کہ رواں سال ہونے والے عام انتخابات کے لیے شفقت محمود نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے لیکن بعد میں انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
اپریل 2022 میں جب پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو اس وقت وہ پارٹی کے صوبہ پنجاب کے صدر تھے۔
پی ٹی آئی کے 25 مئی 2022 کے اس لانگ مارچ کے کچھ دن بعد شفقت محمود نے خرابی صحت کی بنا پر پارٹی کی صوبائی صدارت سے استعفٰی دے دیا تھا۔