ساحل عدیم کیخلاف مقدمہ درج

مذہبی اسکالر ساحل عدیم کے خلاف سندھی قوم کیخلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
 سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ساحل عدیم کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔
ویڈیو میں، جو کہ کم سے کم ڈیڑھ سال پرانی ہے، ساحل عدیم کو سندھی قوم کے خلاف نامناسب اور نفرت انگیز باتیں کرتے سنا گیا۔
 ویڈیو میں وہ غزوہ ہند اور غزوہ سندھ پر بات کرتے ہوئے سندھیوں کے خلاف ناگوار باتیں کر رہے ہیں۔
اس ویڈیو میں، ساحل عدیم نے دعویٰ کیا کہ سندھی لوگ اپنی بیٹیوں کو شادی سے قبل وڈیروں کے حوالے کرتے ہیں اور مزید یہ کہا کہ ان کے کام ہندوؤں سے بھی زیادہ خراب ہیں۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ساحل عدیم پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی گئی اور سندھ بھر کے سوشل میڈیا صارفین نے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
 ایک وکیل کی درخواست پر پولیس نے ساحل عدیم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا۔
سٹی پولیس تھانے کراچی میں ساحل عدیم کے خلاف نفرت انگیز باتیں کرنے اور اقوام کو آپس میں لڑانے سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
 پولیس نے 13 جولائی کو مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی لیکن فوری طور پر ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔
ساحل عدیم کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلامی پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔
 گذشتہ ماہ 30 جون کو ایک ٹی وی شو میں خواتین پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی 95 فیصد خواتین کو جاہل قرار دیا تھا، جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق، ساحل عدیم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
 اس معاملے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ نفرت انگیز بیانات کی مکمل تفصیلات حاصل کی جا سکیں اور مناسب کارروائی کی جا سکے۔
ساحل عدیم کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات نے نا صرف سندھی قوم بلکہ پورے ملک میں غم و غصہ پیدا کیا ہے، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
 اس واقعے نے سماجی اور سیاسی حلقوں میں بھی بحث کو جنم دیا ہے کہ مذہبی اسکالرز کو عوامی بیانات میں محتاط رہنا چاہیے تاکہ قوموں کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارہ برقرار رہے۔

Leave a Comment