عمان میں یوم عاشورہ کی مجلس پر دہشتگرد حملہ، 4 پاکستانی شہید

خلیجی ملک عمان میں یوم عاشورہ کی ایک مجلس پر دہشتگردانہ حملے میں چار پاکستانی شہید جبکہ تیس سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
پاکستان نے عمان کے شہر مسقط میں امام بارگاہ علی بن ابو طالب پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وہاں کی حکومت سے زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کی اپیل کی ہے۔
 ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کے مطابق اس دہشتگردی کے واقعہ میں دو پاکستانیوں سمیت متعدد افراد  جاں بحق ہوگئے ہیں۔ عمان میں پاکستانی سفارتخانہ دو شہید پاکستانیوں کی لاشوں کی شناخت اور وطن واپسی کے لیے عمانی حکومت سے رابطے میں ہے۔
ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا کہ پاکستانی فیملیز کی معاونت کے لیے ہیلپ لائن بھی قائم کر دی گئی ہے۔ عمان میں پاکستانی سفیر علی عمران نے زخمی پاکستانی شہریوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے مقامی ہسپتالوں کا دورہ کیا ہے۔
 انہوں نے ویڈیو پیغام میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثاتی صورتحال میں وادی کبیر کی جانب مت جائیں کیونکہ وہ علاقہ گھیرے میں ہے۔ جن کے لواحقین زخمی ہیں، ان سے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کی اپیل کی گئی ہے۔ خون کے عطیات اور ہسپتالوں میں معاملات کے لیے پاکستانی سفارتخانہ کے افسران اسٹینڈ بائی پر ہیں۔ رابطے کے لیے پاکستانی سفارتخانہ کی ہاٹ لائن قائم کر دی گئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ عمان کے شہر مسقط میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید پاکستانیوں کی تعداد چار ہوگئی ہے جبکہ مزید تیس پاکستانی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
دوسری جانب عمان میں تعینات پاکستانی سفیر علی عمران نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حادثاتی صورتحال میں وادی کبیر کی جانب مت جائیں۔جن کے لواحقین یا عزیز زخمی ہیں وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
 پاکستانی سفیر  نے کہا کہ میں نے 3 چار ہسپتالوں کا دورہ کیا ہے۔ ابھی تک جو زخمی دیکھے ہیں وہ اللہ کے فضل سے محفوظ ہیں۔ ہم عمانی انتظامیہ اور ہسپتالوں کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں۔ خون کے عطیات و دیگر ہسپتالوں میں معاملات کے لیے ہمارے افسران اسٹینڈ بائی پر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ گھروں میں ہیں اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور وادی کبیر کی جانب سفر نہ کریں۔ ہماری اطلاع کے مطابق حادثاتی صورتحال ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اللہ آپ سب کو اپنی امان میں رکھے۔
ابھی تک کسی گروپ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
سوشل نیٹ ورکس پر ایسی ویڈیوز شائع ہوئی ہیں جن میں گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور لوگ خوف کے مارے بھاگ رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش ابھی جاری ہے۔جبکہ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں کم از کم ایک حملہ آور ملوث تھا۔
عمان پولیس نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ تقریب میں موجود متعدد افراد زخمی ہوئے۔اطلاعات کے مطابق نمازی عاشورہ کی یاد منانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
اس فائرنگ کے بعد مسقط میں امریکی سفارت خانے نے ویزوں کے لیے ملاقات کے اوقات کو منسوخ کر دیا ہے۔جبکہ امریکا نے اپنے شہریوں سے ہوشیار رہنے کو کہا ہے۔
خیال رہے کہ ہر سال عاشورہ کی تقریب میں لاکھوں شیعہ شریک ہوتے ہیں۔عاشورہ قمری کیلنڈر کے پہلے مہینے محرم کی دسویں تاریخ کو منایا جاتا ہے۔
اس ملک کے شاہی خاندان سمیت عمان کے زیادہ تر لوگ ابازی مذہب پر یقین رکھتے ہیں۔عمان میں شیعہ اقلیت میں ہیں۔
گذشتہ برسوں میں مشرق وسطیٰ کے مختلف حصوں بالخصوص عراق میں شیعہ کی بہت سی تقریبات خونی حملوں کا نشانہ بنی ہیں۔
گذشتہ برسوں میں، عمان نے نا صرف بین الاقوامی منظر نامے میں ایک ثالث کے طور پر فعال کردار ادا کیا ہے، بلکہ خطے میں برطانوی افواج کا اڈہ بھی رہا ہے۔
عمان کی بندرگاہ “دقم” میں برطانوی بحری اڈہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں برطانوی بحری کمان کے اہم مراکز میں سے ایک ہے۔
سلطنت عمان کے برطانیہ اور امریکا کے ساتھ وسیع فوجی اور سیاسی تعلقات ہیں لیکن اس ملک نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک خاص توازن قائم کر رکھا ہے۔
دیگر چیزوں کے علاوہ حال ہی میں یہ رپورٹس بھی شائع ہوئی ہیں کہ چین اس ملک میں ایک فوجی اڈہ بھی بنانے جا رہا ہے۔
عمان، جس کی آبادی اب ساڑھے چار ملین ہے، خلیج فارس تعاون کونسل کے بانی ارکان میں سے ایک ہے۔
اس کے علاوہ عمان جو کہ اپنی جغرافیائی پرکشش مقامات کی وجہ سے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے، اقتصادی نقطہ نظر سے بھی اہم ہے۔

Leave a Comment