معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے پاکستان کے بارے میں رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے۔
فچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ مسلم لیگی حکومت آئندہ 18 ماہ تک برقرار رہے گی۔
رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں کمی ہو سکتی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے شرح سود میں بھی کمی کی توقع ہے۔ فچ کے مطابق، مالی سال کے اختتام تک اسٹیٹ بینک شرح سود کو 14 فیصد پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
حکومت پاکستان نے بجٹ میں مشکل ترین معاشی اہداف مقرر کیے ہیں۔ فچ رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان مالیاتی خسارے کو 7.4 فیصد سے کم کرکے 6.7 فیصد پر لانا چاہتی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی راہ ہموار کرنے کے لئے حکومت کے مشکل معاشی فیصلے اہم ہیں۔
فچ کی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے لئے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو معاشی رسک قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی زراعت کے لئے سیلاب اور خشک سالی بھی ایک بڑا معاشی رسک ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروری کے انتخابات میں آزاد امیدواروں کو بڑی کامیابی ملی، جنہیں جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی۔ فچ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے شہروں میں مظاہرے معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
فچ کی پیش گوئی کے مطابق، موجودہ مسلم لیگی حکومت 18 ماہ تک برقرار رہے گی اور آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر تمام معاشی اصلاحات کرے گی۔ اگر موجودہ حکومت ختم ہوئی تو پاکستان میں ٹیکنوکریٹ کی حکومت آئے گی۔
یہ رپورٹ پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے اور اس میں دی گئی پیش گوئیاں مستقبل کے ممکنہ حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔