قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے کہا ہے کہ ورلڈکپ میں حالیہ پرفارمنس پر عوام کا ہم پر غصہ جائز ہے،قومی ٹیم میں تعصب کی باتیں سراسر غلط ہیں۔
تفصیلات کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وکٹ کیپر بلے باز کاکہنا تھاکہ ٹیم میں کسی قسم کے تعصب کی کوئی جگہ نہیں ،تمام کھلاڑی پاکستانی ہیں اور جب ہم کھیلتے ہیں تو سبز ہلالی پرچم کو ہمہ وقت ترجیح دیتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ ہم ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
محمد رضوان مزید بولے کہ ہماری ہار پر بہت ساری باتیں ہوئیں، کوئی کہہ رہا ہے ٹیم میں سیاست تھی، ہر کسی کی اپنی رائے ہے لیکن لوگ جو بھی کہیں ہمیں اس کی پروا نہیں، میرے نزدیک جو لوگ تنقید کا سامنا نہیں کرپاتے وہ دنیا میں کچھ نہیں کر سکتے۔
محمد رضوان کا کہنا تھا جب ٹیم ہارتی ہے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ بیٹنگ اور بولنگ مضبوط تھی۔ ٹیم کی ہار میں بہت ساری چیزیں وجہ بنتی ہیں۔ کبھی اختتام یا پاور پلے اچھا نہیں ہوتا تو کبھی بولنگ یا بیٹنگ ہی اچھی نہیں کر پاتے۔
محمد رضوان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ کسی بورڈ چیئرمین نے پہلی بار اس قسم کی باتیں کی ہوں، ہر ایونٹ کے بعد ٹیم میں سرجری کی باتیں ہوتی ہیں،پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین محسن نقوی انتہائی محنتی ہیں،انہیں یہ حق ہے کہ ٹیم کے لیے جو بہتر ہو وہ کریں۔
ٹیم میں قیادت کے معاملے پر وکٹ کیپر بیٹر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کپتان یا ٹیم کی تبدیلی کی باتیں چل رہی ہیں کہ فی الحال بابر اعظم ہی کپتان ہیں۔
رضوان نے اس موقع پر افغان ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ افغانستان کے کھلاڑی کافی محنت کر رہے ہیں اور ٹی 20 ورلڈ کپ میں انہوں نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی، مجھے لگ رہا تھا کہ افغانستان فائنل میں جائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بال اور بیٹ کے سوا اور کچھ نہیں آتا ہے۔ انسان کے ہاتھ میں محنت اور ہمت ہے۔
ہر انسان کو اللہ نے ہمت دی جسے بروئے کار لا کر وہ ملک وقوم کا نام روشن کر سکتا ہے۔انسان جس شعبے میں بھی ہو، اس میں کمال مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔