پنجاب کی جیلوں کےحوالے سے سیکورٹی تھریٹس کے بعد ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے 11ہزار 500 قیدی اور حوالاتی اپنے عزیز و اقارب سے نہیں مل سکیں گے۔
مقامی اخبار روزنامہ جنگ کے مطابق آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے ’جنگ ‘ کو بتایا کہ جیلوں میں 11ہزار 500قیدی اور حوالاتیوں کی جان و مال کی ذمہ داری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا ملاقاتوں سے زیادہ قیدیوں کی سیکورٹی اہم ہے۔ دو ہفتوں میں سیکورٹی آڈٹ مکمل کر کے ملاقاتیں دوبارہ کھول دیں گے۔ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کے اعدادو شمار کے مطابق ڈیرہ غازی خان جیل میں قید1200میں سے300قیدی اور900انڈر ٹرائل پرزنرز ہیں جن میں7خواتین شامل ہیں
میانوالی جیل میں اس وقت قیدیوں کی کل تعداد 1800 ہے جن میں 600قیدی اور 1200انڈر ٹرائل پرزنرز ہیں۔ یہاں خواتین قیدیوں کی تعداد12ہے۔ ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں قید 800میں سے 100قیدی اور 700انڈر ٹرائل پرزنرز ہیں جن میں 14خواتین شامل ہیں۔