باکسنگ کے کھیل میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے مائیک ٹائسن نے کہا ہے کہ مجھے اللہ کی ضرورت ہے۔
مشہور و معروف باکسر مائیک ٹائسن کا ایک بیان ان دنوں خوب سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں یہ کہتے ہیں کہ میں مسلمان ہونے پر بہت خوش ہوں اور اللہ کو میری ضرورت نہیں بلکہ مجھے اللہ کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ آج سے کچھ سال قبل مائیک ٹائسن غیر مسلم تھے مگر انہوں نے جیل میں اسلام مذہب کو قبول کیا ، آئیے جانتے ہیں کہ انہوں نے اسلام مذہب کیوں قبول کیا اور ان کا مسلم نام کیا ہے؟
10مزیدپڑھیں :روزے رہ گئے ہیں، مفتی مینک کا مسلمانوں کیلئے خاص پیغام
مائیک ٹائسن کا نام دنیا بھر میں مقبول ہے جنہیں لیجنڈ باکسر محمد علی کے بعد سب سے زیادہ پذیرائی نصیب ہوئی . مائیک ٹائسن نے باکسنگ رنگ میں کئی سال بطور چیمپین راج کیا ۔
مائیک ٹائسن اپنے کُشتی کے کیرئیر مکمل ہونے کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے اور مختلف غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے جیل کے دنوں میں اسلام قبول کیا ۔
مائیک ٹائسن نے مبینہ طور پر جیل میں وقت گزارتے ہوئے اسلام قبول کیا . باکسنگ گریٹ نے عصمت دری کے جرم میں سزا پانے کے بعد بہت زیادہ نفرت پائی تھی۔
جیل سے رہائی کے بعد ایک انٹرویو میں مائیک ٹائسن نے بتایا تھا کہ وہ اسلام پر کتابیں پڑھ کر بہت متاثر ہوئے ہیں اور انہوں نے اسلام کو امن کے مذہب کے طور پر دیکھا اور پھر مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق مائیک ٹائسن نے مسلمان ہونے کے بعد اپنا نام بدل کر ملک عبدالعزیز رکھ لیا . تاہم، وہ اپنے باکسنگ کیرئیر کے دوران “مائیک ٹائسن” کے نام کے ساتھ ہی جڑے رہے جو ان کی پہچان بنااور مذہب تبدیل کرنے کے بعد ان کے کسی بھی پروفیشنل باکسنگ مقابلے میں ان کا مسلم نام کبھی استعمال نہیں ہوا .