موبائل بیلنس پر بھاری ٹیکسز عائد

پاکستانی صارفین کے لئے موبائل فون کے استعمال پر نئے بجٹ میں بھاری ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں۔ ان نئے ٹیکسز سے ہر شخص متاثر ہوگا، جس سے موبائل فون اور اس کے استعمال کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
موبائل فونز کی قیمتیں بڑھیں:
صدر الیکٹرون ڈیلرز منہاج گلفام نے بتایا کہ بڑے ڈیلرز نے منافع کمانے کیلئے موبائل فونز کی کھیپ ذخیرہ کرنا شروع کر دی ہے۔ اس ذخیرہ اندوزی سے موبائل فونز کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے عام صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔
موبائل بیلنس پر بھاری ٹیکس:
نئے بجٹ کے تحت موبائل بیلنس لوڈ کرنے پر 75 فیصد ایڈوانس ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس کو 15 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سو روپے کا بیلنس لوڈ کرنے پر صارف کو صرف ساڑھے پانچ روپے ہی ملیں گے، جو کہ صارفین کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہے۔
ڈیجیٹل ترقی پر اثرات:
ان بھاری ٹیکسز کے نفاذ سے ڈیجیٹل ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ موبائل فون کے استعمال میں کمی سے ڈیجیٹل سروسز کا استعمال بھی کم ہو گا، جس سے مجموعی طور پر ڈیجیٹل ترقی کی رفتار میں کمی آئے گی۔
صارفین کی پریشانی:
صارفین نے ان نئے ٹیکسز پر شدید ردعمل دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ان بھاری ٹیکسز سے موبائل فون کا استعمال بہت مہنگا ہو جائے گا، جس سے ان کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

Leave a Comment