پاکستانی ٹیم ورلڈ چیمپیئنز آف لیجنڈز کے فائنل میں پہنچ گئی

پاکستان چیمپئنز نے ویسٹ انڈیز کو WCL 2024 کے پہلے سیمی فائنل میں 20 رنز سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ یہ میچ نارتھمپٹن کے کاؤنٹی گراؤنڈ میں کھیلا گیا۔
 199 رنز کا ہدف دیکر، پاکستانی باؤلرز نے شاندار گیند بازی کی اور اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ کے فائنل تک پہنچایا جہاں وہ انڈیا یا آسٹریلیا کا مقابلہ کریں گے۔
سہیل خان نے پاکستان کے لیے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں اور ویسٹ انڈیز کو 178 رنز پر محدود کیا۔
 ویسٹ انڈیز کی شروعات دھیمی رہی، پہلے چار اوورز میں انہوں نے صرف سات رنز بنائے، لیکن کرس گیل نے پانچویں اوور میں زوردار  باؤنڈریاں لگانا شروع کر دیں۔
لیکن کرس گیل کی اننگز بھی زیادہ دیر تک نہیں چلی کیونکہ انہیں سہیل خان نے 26 رنز پر آؤٹ کر دیا۔
 ویسٹ انڈیز نے اس کے بعد وکٹیں کھونے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ تام ایشلے نرس نے 24 گیندوں پر 36 رنز کی تیزی سے کھیلی،ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اپنی ٹیم کو فتح کی جانب لے جائیں گے لیکن کامران اکمل نے انہیں رن آؤٹ کر دیا۔
ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی ریاد ایمریت نے 9 گیندوں پر 29 رنز کی اننگز کھیلی لیکن شعیب ملک نے ان کو بھی آئوٹ کردیا۔
 سہیل  خان نے چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ وہاب ریاض اور شعیب ملک نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
ویسٹ انڈیز کا فیلڈنگ کا انتخاب اور پاکستان کی بیٹنگ:
اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 198 رنز بنائے۔ اس اننگز میں یونس خان 65 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں رہے۔
ابتدائی مشکلات اور اہم پارٹنرشپ:
پاکستان نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو ابتداء میں ہی تین وکٹیں جلدی گر گئیں۔ اس موقع پر کامران اکمل اور کپتان یونس خان نے ذمہ داری سنبھالی اور ایک اہم پارٹنرشپ قائم کی۔ تاہم، کامران اکمل اپنی جارحانہ بلے بازی کے دوران آؤٹ ہو گئے۔
مڈل آرڈر کے مسائل:
کامران اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد، شاہد آفریدی اور مصباح الحق بھی جلدی آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد کپتان یونس خان نے اپنی ٹیم کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور 46 گیندوں پر 65 رنز بنائے، لیکن وہ بھی آخر کار آؤٹ ہو گئے۔
ڈیتھ اوورز میں جارحانہ بیٹنگ:
ڈیتھ اوورز میں عامر یامین اور سہیل تنویر نے جارحانہ بلے بازی کی۔ سہیل تنویر نے 17 گیندوں پر 33 رنز بنائے جبکہ عامر یامین نے 18 گیندوں پر 40 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
 ان دونوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے مجموعی طور پر 198 رنز کا قابل احترام سکور بنایا۔

Leave a Comment