پاکستان میں درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ،وجہ بھی سامنے آگئی

پاکستانی آٹو مارکیٹ میں استعمال شدہ کاروں کی درآمد میں اضافہ دیکھا گیاہے تاہم اس سے مقامی کار سازکمپنیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور اب پاکستانی کار درآمد کمپنیاں اور خریدار قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار ہیں۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے وفاقی حکومت کو ریگولیٹری ڈیوٹی اور اضافی کسٹم ڈیوٹی لگانے کی تجویز بھی دی ہے۔

بجٹ تجاویز میں اوآئی سی سی نے تجویز دی کہ استعمال شدہ کاروں کی درآمد کی حوصلہ شکنی اور مقامی آٹوموبائل انڈسٹری کے تحفظ کے لیے یہ ڈیوٹیز لگاتے رہنا چاہیے۔

 

تجویز میں‌کہاگیاکہ درآمد شدہ کاروں میں اضافہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی کاروں کی فروخت میں کمی کا باعث بن رہا ہےاس لئے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے سکیموں کے تحت درآمد کی جانے والی کاروں پر اضافی ٹیکس لگانے کی سفارش کی گئی۔

اوآئی سی سی آئی نے ایسی پالیسیوں کے نفاذپر زور دیا جو معیشت کے لئے طویل مدتی مفادات رکھتی ہوں،تجویز میں‌کہاگیا استعمال شدہ کاروں کی درآمد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اقدامات کئے جائیں.

دو سال پہلے، پاکستانی حکومت نے استعمال شدہ کاروں کی درآمد پر پابندیوں کو کم کرنے کے لیے امپورٹ پالیسی 2022 میں ترامیم کی تھیں، جس کے تحت 500 کلومیٹر کی سابقہ حد سے زیادہ 2000 کلومیٹر تک مائلیج والی استعمال شدہ کاروں کی درآمد کی اجازت دی گئی تھی۔

پاکستان میں امپورٹڈ کاریں
کئی درآمد شدہ کاروں نے اپنے معیار، خصوصیات اور کارکردگی کی وجہ سے مقبولیت حاصل کی۔ ٹویوٹا وٹز ایک مشہور کمپیکٹ سائز کار رہی جو ایندھن کی بچت اور جدید ترین خصوصیات کی حامل ہے۔

ہونڈا فٹ، ٹویوٹا پرائس، سوزوکی آلٹو جاپانی، لینڈ کروزر، بی ایم ڈبلیو 3 سیریز، ٹویوٹا ایکوا بھی کافی مقبول ہیں۔

Leave a Comment