پاکستان ادارہ شماریات نے ساتویں مردم شماری کے نتائج پر مبنی فائنڈنگ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک میں شادی اور آبادی کے متعلق دلچسپ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی آبادی میں 29.75 فیصد افراد کنوارے ہیں، جبکہ شادی شدہ افراد کی شرح 65.97 فیصد ہے۔
شادی اور ازدواجی حیثیت کے اعداد و شمار:
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں بیواؤں کی شرح 3.78 فیصد ہے۔ مزید برآں، ملک میں طلاق یافتہ افراد کی شرح 0.35 فیصد اور علیحدگی اختیار کرنے والے افراد کی شرح 0.15 فیصد ہے۔
یہ اعداد و شمار ملک میں ازدواجی حیثیت کی مختلف اقسام کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں اور معاشرتی رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔
عمر کے لحاظ سے آبادی کی تقسیم:
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی 79 فیصد آبادی 40 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ، 15 سال سے کم عمر افراد کی شرح 40.56 فیصد ہے، جو کہ ملک کی نصف آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ مزید برآں، 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد کی شرح 26 فیصد ہے۔
ملکی ترقی کے امکانات:
یہ اعداد و شمار ملک کی نوجوان آبادی کی زیادہ تعداد کو ظاہر کرتے ہیں، جو ملکی ترقی کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ نوجوان آبادی کے تناسب میں اضافہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ایک مثبت علامت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی تعلیم و تربیت پر مناسب توجہ دی جائے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
سماجی تبدیلیاں اور چیلنجز:
ادارہ شماریات کی رپورٹ میں موجود یہ اعداد و شمار معاشرتی تبدیلیوں اور چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں جن سے پاکستان کو سامنا ہے۔ کنوارے اور شادی شدہ افراد کی شرح کے علاوہ بیواؤں، طلاق یافتہ اور علیحدہ رہنے والے افراد کی شرح معاشرتی ڈھانچے اور خاندانی نظام پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
پاکستان میں شادی اور آبادی کے یہ اعداد و شمار ملک کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہیں۔ حکومت اور پالیسی سازوں کو ان اعداد و شمار کی روشنی میں مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرتی اور اقتصادی ترقی کے مواقع کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔