پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے پی سی بی کے تمام حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ چیمپئنز ٹرافی 2025ء میں بھارت کی شرکت پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔ یہ فیصلہ ماضی کے طرز عمل سے ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جہاں پی سی بی حکام اکثر بھارت کے خلاف الزام تراشی کے بیانات دیتے تھے۔ اس سے قبل پاکستان ایشیاء کپ 2023ء کی میزبانی کرنے والا تھا لیکن بھارت کی جانب سے دورہ کرنے سے انکار کی وجہ سے ایونٹ کا انعقاد ہائبرڈ ماڈل میں سری لنکا کے ساتھ شریک میزبان کے طور پر کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ محسن نقوی کی یہ ہدایت بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا کے ایک بیان کے بعد کے نتیجے میں کی گئی ہے جس نے مشورہ دیا تھا کہ اگر ہندوستان نے چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے لیے پاکستان کا سفر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔
پی سی بی کے ایک ذریعے نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ “یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں نقوی یا بورڈ کے کسی دوسرے عہدیدار کی طرف سے کوئی تبصرہ یا بیان نہیں آیا ہے کہ اگر ہندوستان اپنی ٹیم پاکستان نہیں بھیجتا ہے تو کیا ہوگا۔
پی سی بی نے ڈرافٹ شیڈول بھجوا دیا ہے اور ہر ٹیم کے سیکیورٹی پلان سمیت دیگر تمام دستاویزات آئی سی سی کو جمع کرادی ہیں۔ اب یہ آئی سی سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہندوستان کو اپنی ٹیم بھیجنے پر راضی کرے۔‘‘ پی سی بی نے خاموش رہنے کا انتخاب کیا ہے اور سری لنکا میں آئی سی سی کے حالیہ سالانہ اجلاس میں ڈرافٹ شیڈول اور بجٹ کو پہلے ہی کلیئر کرنے کے بعد آئی سی سی کو صورتحال کو سنبھالنے دیا ہے۔
ذریعے نے مزید کہا کہ “یہ واضح ہے کہ محسن نقوی پی سی بی کے کارڈ نہیں دکھانا چاہتے ہیں کہ اگر ہندوستان دوبارہ اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کرتا ہے تو بورڈ کا ردعمل کیا ہوگا لیکن بند دروازوں کے پیچھے، حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں کے بعد حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی ہے”۔ پاکستان 2008ء کے ایشیا کپ کے بعد اپنے پہلے بڑے ٹورنامنٹ کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے اور ایونٹ کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ تاہم چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے لیے سفر کرنے میں ہندوستان کی ہچکچاہٹ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے