ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ: ایران ملوث؟

امریکی ٹی وی سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام کو چند ہفتے پہلے رپورٹ ملی تھی کہ ایران سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنا چاہتا ہے۔

 امریکی قومی سلامتی کے اہلکار کا کہنا ہے پینسلوینیا حملے سے قبل سیکرٹ سروس اور ٹرمپ مہم انتظامیہ کو خطرے سے آگاہ کر دیا تھا، ایران کے بارے میں رپورٹ ملنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا۔

سی این این کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی اداروں کو تھامس میتھیو کروکس اور ایران کے تعلق کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کے ترجمان نے رپورٹ کو جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔

ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کی نظرمیں ڈونلڈ ٹرمپ ایک مجرم ہے جس پر جنرل سلیمانی کے قتل کا حکم دینے پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے اور سزا ملنی چاہیے، ایران نے ٹرمپ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے قانونی راستے کا انتخاب کیا ہے۔

گزشتہ دنوں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے تاہم حملہ آور کو موقع پر مار دیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کہ سابق امریکی صدر پنسلوینیا میں منعقد ریلی کے شرکا سے خطاب کیلئے موجود تھے، اچانک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، گولی ڈونلڈ ٹرمپ کے کان کو چھوتی ہوئی نکل گئی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گولیوں کی آواز سنائی دینے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دائیں کان کو ہاتھ لگایا اور پھرتی سے نیچے جھک گئے۔

اس دوران انتخابی ریلی میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لئے بھاگنے لگے تاہم چند ہی لمحے بعد سابق امریکی صدر ٹرمپ کھڑے ہوئے حامیوں کی طرف دیکھ کر فضا میں مکا لہرایا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکار ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے حصار میں لے کر موقع سے چلے گئے جبکہ انتخابی ریلی فوری طور پر ختم کر دی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں حملہ آور کے علاوہ ریلی میں موجود ایک شہری بھی ہلاک ہوا اور دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

Leave a Comment