پاکستانی ٹیم کے ستارے اس وقت شدید گردش میں ہیں ،ایک طرف ٹی 20 ورلڈ کپ سے جلد باہر ہونے کے بعد نہ صرف پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیںجبکہ دوسری طرف کھلاڑیوں کے ہمراہ فیملیز کے جانے پر بھی لوگ سیخ پا ہیں۔
ٹی ٹوینٹی ورلڈکپ میں پہلےنو آموز اور پارٹ ٹائم کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل امریکااور پھربھارت کے خلاف میچ میں شکست کے بعد سے پاکستانی ٹیم سابق کرکٹرز اور اسپورٹس تجزیہ کارکے ہتھے چڑھی ہوئی ہے اور وہ تاک تاک کر ان پر نشانے لگا رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں سابق کرکٹر عتیق الزمان نے بھی قومی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹی20 ورلڈکپ کے دوران کھلاڑیوں کی سیروتفریح پرکئی طرح کے سوالات بھی اٹھادئیے۔
انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے ایونٹس میں کھلاڑیوں کے ساتھ فیملیز کو جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ پھر کھلاڑی اپنی بیویوں کے ساتھ گھومنے میں زیادہ وقت گزار دیتے ہیں، جیسے وہ چھٹیاں منانے آئے ہوئے ہوں۔
سابق کرکٹر کاکہنا تھا کہ فیملیز اور بچوں کے ساتھ جانے کی وجہ سے ان کرکٹرز کا کرکٹ سے فوکس ہٹ جاتا ہے، بیوی بچوں پر ہی فوکس رہتا ہے، رات کو ٹیک اوے پر کھانے کھا رہے ہوتے ہیں، وہیں پر ان کی فلمیں چل رہی ہوتی ہیں۔
عتیق الزمان سمیت دیگر تجزیہ نگاروں کی جانب سے کھلاڑیوں کے فیملیز کو ساتھ لے جانے اور پی سی بی کی جانب سے خرچہ کیا جانے کے بارے میں سابق کرکٹر عمر گُل کی اہلیہ ڈاکٹر مریم نقش نے وضاحت پیش کی ہے جو بلاشبہ اس بحث کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر مریم نقش نےایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ کھلاڑیوں کی فیملی کرکٹ بورڈ کے خرچے پر سفر نہیں کرتی، بیوی، بچوں کے ویزے اور ٹکٹوں کے لیے ہر کھلاڑی کو خود ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔