پاکستانی سیاست کے بعد پاکستانی کرکٹ میں بھی مذہب کارڈ کا لفظ سامنے آگیا۔
پاکستانی کرکٹر احمد شہزاد نے کہا ہے کہ یہ واقعی مایوس کُن ہے کہ کچھ کھلاڑی غیر ضروری پریس کانفرنس اور مذہب کارڈ کھیل کر ورلڈ کپ میں اپنی خراب کارکردگی کو چھپا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر احمد شہزاد نے کسی بھی کھلاڑی کا نام لیے بغیر لکھا کہ جب وہ اپنی فٹنس کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں اور جب وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ میدان میں اداکاری کر رہے تھے تو مذہب کہاں جاتا ہے؟
احمد شہزاد نے لکھا کہ کیا مذہب آپ کو دوسروں کو دھوکا دینا اور میدان میں جھوٹ بولنا سکھاتا ہے؟ آپ کو میدان میں پرفارم کرنے کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں اور آپ اس کے بجائے ٹیم میں گروپ بندی میں شامل ہوتے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ مذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری پوری عزم کے ساتھ ادا کریں اور اپنی تکلیف کے بارے میں جھوٹ نہ بولیں، ان کھلاڑیوں کے کچھ ترجمان چاہتے ہیں کہ انہیں ایک اور موقع دیا جائے لیکن کیوں؟ یہ پاکستان کی ٹیم ہے اور یہ ان کے گھر کی ٹیم نہیں ہے جہاں وہ کھیل سکیں۔