مویشیوں کی نیلامی کی دنیا میں ویاٹینا 19 فائیو مارا ایموویس نامی نیلور نسل کی گائے نے اب تک فروخت ہونے والی سب سے مہنگی گائے بن کر تاریخ رقم کردی۔
برازیل میں نیلام ہونے والی اس گائے کی قیمت 48 لاکھ امریکی ڈالر (بھارتی روپے میں 40 کروڑ کے برابر) تقریباً ایک ارب 33 کروڑ 36 لاکھ سے زائد پاکستانی روپے ہے۔
نیلور نسل، جس کی خصوصیت اس کی چمکیلی سفید کھال اور کندھوں کے اوپر مخصوص کوہان سے ہوتی ہے، بھارت سے تعلق رکھتی ہے لیکن یہ برازیل کی اہم ترین نسلوں میں سے ایک بن گئی ہے۔
آندھرا پردیش کے نیلور ضلع کے نام سے منسوب، ان مویشیوں کو سائنسی طور پر بوس انڈیکس کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے اور یہ بھارت کے مضبوط اور موافقت پذیر اونگول مویشیوں کی اولاد ہیں۔
مزیدپڑھیں :مسجد الحرام کے اطراف سے 4 ہزار سے زائد بھکاری گرفتار
1868 میں برازیل میں اونگول مویشیوں کا پہلا جوڑا متعارف کرایا گیا جس سے ملک میں اس نسل کے پھیلاؤ کا آغاز ہوا۔
نیلور نسل کی گرم درجہ حرارت میں پھلنے پھولنے کی صلاحیت، اس کے موثر میٹابولزم اور پرجیوی انفیکشن کے خلاف مزاحمت کے ساتھ، مویشی پالنے والوں نے اسے بہت زیادہ پسند کیا گیا ہے۔
ریٹانا 19کی فروخت صرف ایک گائے کی فروخت نہیں بلکہ اس میں موجود خصوصیات کی وجہ سے اہم کہ اس کے ایمبریو اور منی کی صورت میں توقع کی جاتی ہے کہ وہ اولاد پیدا کرے گی جو اس کے اعلیٰ خصائص کو برقرار رکھے گی، اس طرح نیلور نسل کی مجموعی بہتری میں حصہ ڈالے گی۔
برازیل کے ساؤ پاؤلو کے شہر ارنڈو میں ہونے والی نیلامی میں ساڑھے 4 سالہ گائے کی ایک تہائی ملکیت 69 لاکھ 90 ہزار ریال میں فروخت ہوئی، جو کہ 14 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔
اس فروخت نے اس کی مجموعی قیمت کو 43 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچا دیا اور ایک سال قبل اس کی نصف ملکیت 8 لاکھ ڈالر میں فروخت ہونے کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔
نیلور گائے پہلے سے ہی برازیل کی کل گائے کی آبادی کا 80 فیصد پر مشتمل ہے۔
ان کی ناقص معیار کے چارے پر پھلنے پھولنے کی صلاحیت اور ان کی افزائش میں آسانی کی وجہ سے وہ برازیل کے متنوع آب و ہوا میں پالنے والوں کے لیے ایک عملی انتخاب بنتی ہیں۔