سپن بائولنگ کیخلاف بابر اعظم کی بیٹنگ ‘مسئلہ’ ہے : رمیز راجہ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین رمیز راجہ نے ہفتہ کو برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں معین علی کی جانب سے دائیں ہاتھ کے بلے باز کو ہٹائے جانے کے بعد کہا ہے کہ اسپنرز کے خلاف بابر اعظم کی بیٹنگ “مسئلہ” ہے۔ بابر اعظم کافی دیر سے کریز پر موجود تھے لیکن وہ معین علی کے سامنے بے بس نظر آئے اور 26 گیندوں پر 32 رنز بنانے کے بعد ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
کپتان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان نے مسلسل وکٹیں گنوانے کا سلسلہ جاری رکھا اور طویل شراکت قائم کرنے میں ناکام رہے۔ رمیز راجہ نے اسپن بولنگ کے خلاف بابر کی جدوجہد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسے سپنرز پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے وسیع شاٹس کھیلنے اور اپنے فٹ ورک کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
رمیز راجہ نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا کہ ‘بابر اعظم کی اسپن کے خلاف بیٹنگ ایک مسئلہ ہے، وہ پیسرز کے خلاف اچھی بیٹنگ کر رہے تھے لیکن جب بھی سپنرز آتے ہیں تو وہ ساکت ہو جاتے ہیں، چاہے وہ لیگ سپن ہو یا آف سپن’۔
رمیز راجا نے کہا کہ “یا تو اسے ریورس سویپ، سویپ شاٹ یا سپن کے خلاف سوئچ ہٹ کھیلنا ہے یا اسے اپنے فٹ ورک کو استعمال کرنا ہوگا اور سپنرز پر غلبہ حاصل کرنا ہوگا کیونکہ سپنر کے آتے ہی غلبہ کا عنصر ختم ہوجاتا ہے۔ اس لیے بابر کو اس مسئلے پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پی سی بی کے سابق چیئرمین نے پھر کہا کہ انگلینڈ ایک مکمل ٹیم ہے کیونکہ اس کے پاس نمبر 8 تک پاور ہٹرز ہیں اور ان کی لائن اپ بھی بہت اچھی ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف جیتنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ “یہاں انگلینڈ کے خلاف کھیلنا جیت کے لحاظ سے آسان نہیں ہوگا کیونکہ ان کے پاس نمبر 1 سے 7،8 پوزیشن تک گنسلنگرز ہیں، باؤلنگ میں بھی ان کی ہمہ گیر طاقت ہے۔ ان کے پاس دو اچھے سپنرز ہیں، پیس باولنگ میں ان کے پاس جوفرا آرچر اور کرس جارڈن ہیں۔ رمیز راجا نے کہا کہ پاکستان اب 160 رنز کے ساتھ نہیں کھیل سکتا، اسے 180 یا اس سے زیادہ اسکور کرنا ہوں گے کیونکہ پچ سادہ تھی اور اس جدید دور میں آپ زیادہ خطرہ مول لیے بغیر آسانی سے 180 رنز بنا سکتے ہیں۔

Leave a Comment