سعودی عرب کے ایک فیصلے نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھا دیں

سعودی عرب کے ایک فیصلے نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھا دیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور تیل پیدا کرنے والے 7 ممالک نے تیل کی پیدوار میں کٹوتی کے فیصلے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ سعودی عرب اور تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کے اس فیصلے کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کو بریک لگ گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ سے اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ برطانوی خام تیل کی قیمت دوبارہ سے ساڑھے 78 ڈالرز فی بیرل کی سطح سے اوپر چلی گئی ہے۔ جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت سوا 74 ڈالرز فی بیرل کی سطح کے قریب آ گئی ہے۔ اس سے قبل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی طلب میں کمی کے خدشات اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی جانب سے سال کے آخر تک سپلائی میں اضافے کے فیصلے کے امکانات کے پیش نظر تیل کی قیمت میں فی بیرل ایک ڈالر کی کمی ہوگئی تھی۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی گزشتہ روز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سیزن میں 4 ماہ کے دوران خسارے کے بعد برینٹ کی قیمت میں 1.11 ڈالر یا 1.4 فیصد کمی کے ساتھ 77.25 ڈالر فی بیرل پر آگئی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیر کو کاروباری دن کے اختتام پر برینٹ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل تھی جو 3 فیصد سے زیادہ تنزلی کے ساتھ رواں برس 7 فروری کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر آئی۔
ایک موقع پر برینٹ کی قیمت 76.76 ڈالر فی بیرل پر بھی آگئی تھی جو رواں برس جنوی کے شروع میں ریکارڈ کی گئی 74.79 ڈالر فی بیرل سے صرف 2 ڈالر دوری پر تھی۔ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 1.09 ڈالر یا 1.5 فیصد کمی ہوئی، امریکی خام تیل کی قیمت پیر کو 3.6 فیصد تک قیمت گر گئی تھی جو تقریباً 4 ماہ کی کم ترین قیمت تھی۔ تاہم اب مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ سے اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

Leave a Comment