موٹر سائیکل سواروں کے لیے سستا پیٹرول: سبسڈی اسکیم کی تجویز

موٹر سائیکل سوار شہریوں کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں سبسڈی دینے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے اس تجویز کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول پر سبسڈی فراہم کرنی چاہیے تاکہ ان کی مالی مشکلات میں کمی آسکے۔

قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف ممبران اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ملک امجد زبیر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے مختلف معاملات پر گفتگو کی گئی، جس میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول پر سبسڈی دینے کی تجویز بھی زیرِ بحث آئی۔

امیر طبقے کے لیے ہائی اوکٹین پر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی سفارش:

اجلاس میں یہ سفارش کی گئی کہ امیر طبقے کی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی اوکٹین پر پیٹرولیم لیوی 75 روپے سے بڑھا کر 80 روپے فی لیٹر کی جائے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول پر سبسڈی اسکیم شروع کی جانی چاہیے، جبکہ امیر طبقے کے لیے ہائی اوکٹین پر لیوی بڑھا دی جائے تاکہ امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں پر خرچ کیا جا سکے۔

انڈونیشیا کی مثال:

سلیم مانڈوی والا نے انڈونیشیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر انڈونیشیا کی حکومت موٹر سائیکل سواروں کو کم ریٹ پر پیٹرول فراہم کر سکتی ہے تو پاکستان میں بھی ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل اور لگژری گاڑی والوں کے لیے پیٹرولیم لیوی کی شرح ایک جیسی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ دونوں طبقات کی مالی حالت میں بڑا فرق ہے۔

سبسڈی اسکیم اور الگ پمپس کی تجویز:

اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز نے ہائی اوکٹین پر پیٹرولیم لیوی 100 روپے فی لیٹر کرنے کی سفارش کی جبکہ ممبر فاروق نائیک نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے سستے پیٹرول کی فراہمی کے لیے الگ پمپس لگانے کی تجویز دی۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ امیروں سے حاصل کردہ ٹیکس کو غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا عوام کے لیے تحفہ:

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو عید الاضحیٰ کے موقع پر بڑا تحفہ دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 20 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 2.33 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 16 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی نئی قیمت 267 روپے 89 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

حکومت کی ترجیحات اور عوامی ریلیف:

یہ اقدامات حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ موٹر سائیکل سوار شہریوں کے لیے پیٹرول پر سبسڈی کی تجویز نہ صرف ان کی مالی مشکلات میں کمی لائے گی بلکہ اس سے معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ حکومت کی ترجیحات میں عوام کی فلاح و بہبود شامل ہے اور اس قسم کی سبسڈی اسکیمیں اس مقصد کو حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول پر سبسڈی کی تجویز ایک اہم اقدام ہے جو ان کی مالی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ امیر اور غریب طبقے کے لیے مختلف لیوی شرح مقرر کرنا بھی ایک معقول تجویز ہے جس سے حکومتی آمدنی میں اضافہ اور عوامی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ حکومت اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی۔

Leave a Comment