پاکستان ٹیم کے سابق کپتان اور کمنٹیٹر رمیز راجا کا ماننا ہے کہ پاکستان کے کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کی سینٹرل کنٹریکٹ کیٹیگری سے ممکنہ تنزلی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ٹی20ورلڈکپ سے جلد باہر ہونے کے بعد صرف گھٹنے ٹیکنے والا ردعمل ہے۔
اطلاعات کے مطابق بابر اعظم اور محمد رضوان دونوں (پی سی بی) کے ساتھ اپنی کیٹیگری اے کا درجہ کھو سکتے ہیں۔ یہ افواہیں ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی، خاص طور پر امریکا اور بھارت کے ہاتھوں غیر متوقع شکستوں کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ کینیڈا اور آئرلینڈ کے خلاف فتوحات حاصل کرنے کے باوجود، یہ جیت پاکستان کو سپر 8 مرحلے میں آگے بڑھانے کے لیے ناکافی تھیں۔
رمیز راجا، جو اپنے بے باک خیالات کے لیے مشہور ہیں، نے ان رپورٹس پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے سخت اقدامات بلاجواز ہوں گے۔ “یہ میری سمجھ سے باہر ہے، کرکٹرز کو تنخواہ دی جانی چاہیے کیوں کہ کھلاڑیوں کا کیرئیر بہت زیادہ محدود ہوتا اور پی سی بی کے پاس کرکٹرز کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔
پی سی بی نے ابھی تک سینٹرل کنٹریکٹ میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا۔ تاہم، قیاس آرائیوں نے پہلے ہی کرکٹنگ کمیونٹی میں اہم بحث چھیڑ دی ہے۔
رمیز راجا نے بتایا کہ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، یہ گھٹنے ٹیکنے والا ردعمل ہے اور آپ کرکٹرز کی تنخواہوں میں اضافہ یا کمی کرکے معیار کو بہتر نہیں کر سکتے۔
رمیز راجا کا خیال ہے کہ افرادی قوت کی تنخواہ میں کمی کے نتیجے میں افرادی قوت ملازمت چھوڑ دے گی اور پی سی بی یہ فیصلہ گھٹنے ٹیکنے والے ردعمل کے طور پر لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹرز کی تنخواہیں روکنا منطقی اور قابل جواز نہیں ہے۔
جیسا کہ پی سی بی اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہا ہے، بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کے قد کو دوبارہ حاصل کرنے کی امیدوں کے ساتھ، مستقبل کے مقابلوں کے لیے قومی ٹیم کی تعمیر نو پر توجہ مرکوز ہے کرکٹ بورڈ کی۔