خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں سابق سینیٹر ہدایت اللہ خان سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
دھماکے کی تفصیلات:
ریجنل پولیس آفیسر محمد علی گنڈاپور کے مطابق، یہ دھماکا ضلع باجوڑ کے علاقے ڈمہ ڈولہ میں ہوا جہاں سابق سینیٹر ہدایت اللہ خان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے میں سابق سینیٹر ہدایت اللہ کے علاوہ ملک عرفان، نظر الدین، یار محمد، اور سمیع الرحمٰن بھی جاں بحق ہوگئے۔
ہسپتال منتقلی:
جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار باجوڑ منتقل کردی گئی ہیں۔ دھماکے کی شدت کی وجہ سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔
واقعے کی مذمت اور تحقیقات:
چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چودھری نے اس افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ سابق سینیٹر سمیت دیگر افراد کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی اور بزدلانہ حملوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی اور سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔
سابق سینیٹر کی شخصیت اور خدمات:
سابق سینیٹر ہدایت اللہ خان نے سال 2012 ء سے لے کر 2024 ء تک دو بار سابق فاٹا سے آزاد حیثیت سے سینیٹ کے ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ نیکٹا کے ممبر اور سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہوابازی کے چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔
حملے کا پس منظر:
سابق سینیٹر ہدایت اللہ خان اپنے بھتیجے اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے-22 سے آزاد امیدوار نجیب اللہ خان کی انتخابی مہم کے لیے ڈمہ ڈولہ گئے تھے۔ واپسی پر ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
حکومتی اور عوامی ردعمل:
حکومت نے اس واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومتی عہدیداروں نے یقین دلایا کہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا اور مجرموں کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ دھماکا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کی ایک اور کڑی ہے جس نے نہ صرف مقامی عوام بلکہ پورے ملک کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ عوامی نمائندوں اور سیکورٹی اداروں کو مل کر ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور علاقے میں امن و امان بحال ہو سکے۔