جنوب مغربی لندن میں واقع ‘ایم پی وینڈر ورتھ’ جیل میں ایک خاتون وارڈن کے قیدی کے ساتھ مبینہ جنسی تعلقات کا انکشاف ہوا ہے۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔
وارڈن لنڈا ڈی سوزا ابریو کی ویڈیو میں اسے ایک قیدی کے ساتھ بستر پر پایا گیا۔ اس ویڈیو کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ خفیہ کیمرہ کس نے نصب کیا تھا۔
پولیس نے لنڈا ڈی سوزا کو حراست میں لے لیا ہےاور اسے پیر کو اکسبرج قصبے کی مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔
اس پر عوامی دفتر کے فرائض کی انجام دہی کے دوران بدتمیزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ڈی سوزا کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے میڈرڈ جانے کی کوشش کر رہی تھی۔
عدالت میں سماعت کے دوران ڈی سوزا نے صرف اپنا نام، تاریخ پیدائش اور پتہ کی تصدیق کی
عدالت نے اسے مشروط ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا، جس میں یہ شرط شامل تھی کہ وہ برطانیہ کے کسی ہوائی اڈے یا سفری بندرگاہ میں داخل نہیں ہوں گی اور شام 7 بجے سے صبح 9 بجے تک گھر سے باہر نہیں جائیں گی۔ کیس کی مزید سماعت 29 جولائی کو ہوگی۔
یہ اسکینڈل جیل میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں کہ خفیہ کیمرہ کس نے نصب کیا اور یہ ویڈیو کیسے وائرل ہوئی۔