نئے بجٹ کا سرجیکل آلات پر بڑا حملہ

وفاقی بجٹ میں سرجیکل آلات کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کرکے سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا۔ جس کے باعث تھرمامیٹر، شوگرسٹرپس، بی پی آپریٹس، سرجیکل گلوز اور وہیل چیئرز سمیت 200 سے زائد طبی آلات مہنگے ہوگئے ہیں۔

 مفت صحت کی سہولت تو دور کی بات حکومت نے علاج بھی مزید مہنگا کردیا، بلڈ پریشر اور شوگر چیک کروانے کے بھی زیادہ پیسے دینا پڑیں گے کیونکہ حکومت نے میڈیکل ڈیواسز پر ٹیکس لگا دیا ہے، شوگر چیک کرنے والی معمولی نوعیت کی سٹرپس کا پیکٹ 700 روپے کے بجائے ہول سیل میں ایک ہزار روپے کا ملے گا۔ 13 ہزار والی وہیل چیئر ساڑھے17 ہزار تک پہنچ جائے گی۔ بی پی آپریٹس سمیت گھروں میں استعمال ہونے والی دیگر ڈیوائسزکی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

 

پیما ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین مسعود احمد نے بتایا کہ 95 فیصد طبی آلات درآمد کیے جاتے ہیں۔ ڈیوائسز مہنگی ہونے سے علاج بھی مہنگا ہوجائے گا۔

 

صرف یہی نہیں اب 1 لاکھ کا اسٹنٹ ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے میں ملے گا۔ بچوں کے دل میں سوراخ کے لیے سرجیکل آلات کی قیمت میں 5 سے 8 لاکھ روپے اضافہ، جبکہ 4 لاکھ روپے کا پیس میکر 6 سے 7 لاکھ میں ملے گا اب سے۔

 

حکومت پاکستان نے بجٹ میں سرجیکل آلات کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کرکے سیلز ٹیکس عائد کیا ہے جو کہ بلکہ ایسا ہے کہ حکومت نےصحت کی سہولیات پر تلوارچلا دی ہوا۔ تھرمامیٹر، شوگرسٹرپس، بی پی آپریٹس سمیت200سےزائدطبی آلات مہنگے ہوگئے ہیں۔

Leave a Comment