بابر اعظم کی کپتانی کے بارے میں افواہوں کا بازار گرم ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے موجودہ حالات پر وہاب ریاض اور گیری کرسٹن کی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نجی ٹیلی وژن کے مطابق وہاب ریاض کی رپورٹ میں ٹیم کے گیم پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی ٹیم میں ٹیلنٹ موجود ہے، لیکن نتائج توقعات کے مطابق نہیں آئے۔
وہاب ریاض نے زور دیا کہ گراس روٹ لیول اور ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ ٹیم میں ڈسپلن کا فقدان بھی سامنے آیا ہے۔
گیری کرسٹن کی رپورٹ میں ٹیم کے اندرونی ماحول کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ کرسٹن نے بتایا کہ بعض کھلاڑی آپس میں بات چیت نہیں کرتے اور ڈریسنگ روم کا ماحول کشیدہ رہا۔
نجی ٹیلی وژن کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس معاملے پر غصے میں کیے گئے فیصلوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیری کرسٹن کی رپورٹ پر مشاورت کے بعد ہی حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
اس وقت بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔