جمائما گولڈ اسمتھ، جو برطانوی نژاد لکھاری، فلم ساز اور صحافی ہیں، نے ماضی میں اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے دو سال تک ہراسانی کا خوف برداشت کیا۔
یہ انکشاف انہوں نے ایکس (پہلے ٹویٹر) پر کیا تھا، جہاں انہوں نے اپنی ہراسانی کے تجربے کو دہرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خواتین خوش نصیب ہیں جو پیدل چلنے کے خوف سے بچنے کے لیے اوبر جیسی سفری سہولتوں کا استعمال کرتی ہیں۔
ہراسانی کا واقعہ اور مقدمہ:
جمائما گولڈ اسمتھ نے انکشاف کیا کہ وہ دو سال تک ایک مرد ٹیکسی ڈرائیور کی ہراسانی کے خوف کو برداشت کرتی رہیں۔
ان کا اشارہ 2016 ءمیں پاکستانی نژاد ٹیکسی ڈرائیور حسن محمود کی جانب سے ہراسانی کے واقعے کی طرف تھا۔
حسن محمود نے جمائما کو آن لائن ہراساں کیا، جس پر جمائما نے پولیس میں شکایت درج کروائی اور اس کے خلاف لندن کی عدالت میں مقدمہ چلا۔
عدالتی کارروائی:
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جمائما نے 16 جون 2016 ءکو حسن محمود کی ٹیکسی پر سفر کیا اور سفر کے اختتام پر ان کے ساتھ سیلفی لی۔
بعد میں حسن محمود نے جمائما کا نمبر ٹیکسی بک کروائے جانے کے ریکارڈ سے حاصل کیا اور انہیں ہراسانی کا نشانہ بنانا شروع کیا۔
حسن محمود نے 18 مختلف موبائل فونز استعمال کر کے جمائما کو 200 سے زائد پیغامات اور ایک ہزار سے زائد فون کالز اور واٹس ایپ پیغامات بھیجے۔
ہراسانی کا انجام:
حسن محمود نے جمائما گولڈ اسمتھ پر دوستی کے لیے دباؤ ڈالا اور ان سے سوالات کیے کہ آخر وہ کیوں دوست نہیں بن سکتے۔
عدالت نے اکتوبر 2017 ء میں حسن محمود کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی۔ جمائما نے اپنے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس واقعے کو یاد کیا اور سوال اٹھایا کہ کتنی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے سفر کے دوران مرد ٹیکسی ڈرائیور کی ہراسانی کا سامنا کیا؟
ان کا کہنا تھا کہ اوبر میں سفر کرنے سے بھی خاتون کے محفوظ رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
خواتین کی حفاظت کے مسائل:
جمائما گولڈ اسمتھ کے اس تجربے نے خواتین کی حفاظت کے مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی خواتین روزمرہ کے سفر کے دوران ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں اور انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ ان کے اس تجربے نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ خواتین کے لیے سفر کے دوران مکمل تحفظ کب فراہم کیا جائے گا۔
جمائما گولڈ اسمتھ کی کہانی ایک یاد دہانی ہے کہ خواتین کو سفر کے دوران بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کے خلاف مناسب اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ان کا تجربہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خواتین کی حفاظت کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ وہ بلا خوف و خطر سفر کر سکیں۔