نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے حکومتی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
حکومت نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7 روپے 12 پیسے تک اضافے کی درخواست دی تھی۔
پاور ڈویژن کے حکام نے سماعت کے دوران بتایا کہ کے-الیکٹرک کے صارفین کو 177 ارب روپے اور دیگر تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین کو 313 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو تین ماہ کے لیے ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے 86 فیصد گھریلو صارفین مستفید ہوں گے۔ اس ریلیف کے تحت 50 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔
پاور ڈویژن حکام نے مزید بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 490 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔
نیپرا کے ممبر مقصود انور خان نے دوران سماعت کہا کہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق 65 فیصد صارفین پر اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ تاہم پاور ڈویژن حکام کا مؤقف تھا کہ 86 فیصد گھریلو صارفین اس اضافے سے محفوظ رہیں گے۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد نیپرا نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جو بعد میں جاری کیا جائے گا اور وفاقی حکومت کو ارسال کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 14 جون کو نیپرا نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 5 روپے 72 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی تھی، جس کا اطلاق یکم جولائی 2024 ءسے ہوگا۔
اس سے قبل بھی بجلی کے ٹیرف میں اضافے کی متعدد مثالیں موجود ہیں، جیسے کہ مالی سال 2023-24 میں 7.50 روپے فی یونٹ اور مالی سال 2022-23 میں 7.91 روپے فی یونٹ تک اضافہ کیا گیا تھا۔