قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور ڈویژن) کا اجلاس چیئرمین کمیٹی محمد ادریس کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری اور ایڈیشنل سیکریٹری توانائی نے بھی شرکت کی۔
اقبال آفریدی کا بیان:
فاٹا سے منتخب رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں تجویز دی کہ عمران خان سے ملاقات پر فی ملاقات 10 ہزار روپے ٹیکس عائد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح اتنی رقم جمع ہو جائے گی کہ کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔
فاٹا میں بجلی کے مسائل:
محمد اقبال نے فاٹا میں بجلی کی فراہمی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی علاقوں میں ایک گھنٹہ بھی بجلی نہیں آتی۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ قبائلی علاقوں کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں ہو رہی ہے اور انہیں بجلی کے لیے ہفتہ ہفتہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔
حکام کی وضاحت:
پاور ڈویژن کے حکام نے وضاحت کی کہ فاٹا کے لیے 65 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے اور اس سال 39 ارب روپے کی فری بجلی دی گئی ہے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ فاٹا میں 4 لاکھ 10 ہزار گھریلو صارفین کو مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
محمد اقبال کی تنقید:
محمد اقبال نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں بجلی کے تار ہی نہیں ہیں اور 39 ارب روپے کی بجلی میں سے ایک ارب کی بجلی بھی خرچ نہیں ہوتی۔ انہوں نے تجویز دی کہ عمران خان سے ملاقات پر 10 ہزار روپے ٹیکس لگانے سے اتنی رقم جمع ہو جائے گی کہ کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔
اجلاس کا اختتام:
رکن کمیٹی محمد اقبال یہ کہہ کر اجلاس چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ اس پر مسلم لیگ (ن) کے رکن کمیٹی رانا محمد حیات نے کہا کہ آپ لوگ اسمبلی اجلاس میں بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔