پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران زبردست تیزی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 684 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 81,839 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ گذشتہ کاروباری روز انڈیکس 81,155 پر بند ہوا تھا۔
گذشتہ چند روز کی کارکردگی:
15 جولائی کو کے ایس ای-100 انڈیکس 1,211 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 81,000 کی نئی بلند ترین سطح پر تھا۔ 3 جولائی کو انڈیکس 680 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 80,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا تھا۔
 20 جون کو بھی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی تھی، جب کے ایس ای-100 انڈیکس 2,094 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 78,801 کی نئی بلند سطح پر پہنچ گیا تھا۔
 اگلے روز، ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس 1,199 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 80,000 کی نئی بُلند ترین سطح پر پہنچ گیا، تاہم کاروبار کے اختتام تک یہ رجحان برقرار نہیں رہ سکا اور انڈیکس محض 9 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 78,810 پر بند ہوا۔
آئی ایم ایف معاہدہ اور مارکیٹ کا ردعمل:
ای ایف جی ہرمیس پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو رضا جعفری نے مارکیٹ کی موجودہ تیزی کو آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے سے منسوب کیا ہے، جو کہ کلی معاشی استحکام اور اصلاحات کے لیے معاون ثابت ہوگا۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ اویس اشرف نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آئی ایم ایف قرض پروگرام:
13 جولائی کو عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کا اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس کی مالیت 7 ارب ڈالر ہے اور اس کا دورانیہ 37 ماہ ہوگا۔
اس معاہدے نے پاکستان کی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
حالیہ کارکردگی کے اعداد و شمار:
12 جون کو بجٹ پیش کیے جانے کے بعد 14 جون کو کے ایس ای-100 انڈیکس 877 پوائنٹس اضافے کے بعد تاریخ میں پہلی بار 77,000 کی سطح عبور کر گیا تھا۔
 24 مئی کو کے ایس ای-100 انڈیکس 76,000 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔
 15 مئی کو انڈیکس 565 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 75,096 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
اس سے قبل، انڈیکس 74,000 کی حد بھی عبور کر چکا تھا۔
 10 مئی کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان دیکھا گیا تھا، جب ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران ہی انڈیکس میں 427 پوائنٹس کے اضافے سے 73,000 کی نفسیاتی حد بحال ہو گئی تھی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ تیزی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا ہے اور مارکیٹ کی مجموعی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔
آئی ایم ایف معاہدے کی بدولت، مستقبل میں بھی مارکیٹ میں مثبت رجحانات دیکھے جا سکتے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ کی یہ تیزی پاکستانی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت ہے، جس سے معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Leave a Comment