پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات کیلئے جے یو آئی کی کمیٹی تشکیل

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ باہمی مذاکرات کے لیے ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔
 سینئر رہنما کامران مرتضیٰ کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں مولانا لطف الرحمان، فضل غفور، اسلم غوری، اور مولانا امجد شامل ہیں۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مثبت پیش رفت ممکن ہے، مگر پہلے دونوں جماعتوں کے تلخ تعلقات کو نارمل کرنا لازمی ہے۔
 مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ نئے انتخابات اور اصل عوامی مینڈیٹ کی حکومت ہی مسائل کا حل ہیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کے لیے صوبائی حکومت سمیت تمام اسمبلیوں سے استعفوں کی آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ نئے انتخابات مسائل کا حل ہو سکتے ہیں اور یہ صورتحال کو نارمل اور مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں پر مقدمات نہیں بننے چاہئیں اور جو سیاسی سہولت یا مراعات بطور سیاستدان ان کے پاس ہیں، وہ سب کو یکساں ہونی چاہئیں۔
 انہوں نے تجویز دی کہ فوج کو انتخابات سے لاتعلق ہونا چاہیے اور پارلیمانی و بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ منعقد کیے جانے چاہئیں۔ مولانا فضل الرحمان نے نگران سیٹ اپ کے تصور کو ختم کرنے کی بھی تجویز دی۔
مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ جے یو آئی پارٹی وابستگی سے بالا عوامی امن جلسے منعقد کرے گی۔ 5 اگست کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے خلاف ملک گیر یوم سیاہ منایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 10 اگست کو مردان میں کسان کنونشن، 11 اگست کو پشاور میں تاجر کنونشن، اور 18 اگست کو لکی مروت میں امن کنونشن ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ان تمام عوامی اجتماعات میں خود شریک ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے عوام 2001ء سے 2024ء تک امن کو ترس رہے ہیں اور ملک میں معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام لازمی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک اب مزید کسی ایڈونچر یا مارشل لاء کا متحمل نہیں ہو سکتا اور کوئی قیاس بھی نہ کرے۔

Leave a Comment