مدینہ منورہ سے تقریباً 110 کلو میٹر جنوب میں واقع ایک منفرد وادی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے “وادی خضرۃ” کا نام دیا، اپنی سرسبزی اور چشموں کی وجہ سے مشہور ہے۔
اس وادی کو پہلے “وادی غبرہ” یا “وادی عفرۃ” کے نام سے جانا جاتا تھا، جو اس کی بے آب و گیاہ حالت کی عکاسی کرتا تھا۔
تاہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام تبدیل کیا اور “وادی خضرۃ” رکھا۔ اس تبدیلی کے بعد، وادی میں میٹھے پانی کے نو چشمے پھوٹ پڑے اور یہ علاقہ ہمیشہ کے لیے سرسبز و شاداب ہوگیا۔
وادی خضرۃ میں سال بھر سرسبز رہنے والی نباتات اور ہرے بھرے درختوں کی بھرمار ہے، جس میں کھجور کے درخت نمایاں ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر کھجور کے درختوں کی نگہداشت کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جاتا، لیکن پھر بھی یہ وادی خودبخود سرسبز رہتی ہے۔

ایک مقامی شہری، راکان المخلفی، نے بتایا کہ وادی میں بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے مقامی آبادی یہاں سے دور ہو رہی ہے، جس سے وادی کی قدرتی خوبصورتی محفوظ رہتی ہے۔
المخلفی نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں اس وادی میں سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دور دراز سے آنے والے لوگ اس وادی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اس کے قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں آتے ہیں۔
وادی خضرۃ کی اس منفرد تاریخ اور قدرتی خوبصورتی نے اسے ایک مقبول سیاحتی مقام بنا دیا ہے، جہاں لوگ اس کی سرسبز و شاداب مناظر اور میٹھے پانی کے چشموں کا لطف اٹھاتے ہیں۔
مقامی اور غیر ملکی سیاح اس وادی کی خوبصورتی اور اس کے تاریخی پس منظر کو دیکھنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔