بی سی سی آئی کو خطرہ ہے کہ اگر چیمپئنز ٹرافی کیلئے ٹیم نہ بھیجی تو پاکستان بھی بھارت میں شیڈول اگلے 3 ٹورنامنٹس کھیلنے سے انکار کرسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کو آئندہ برس چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرنا ہے، بھارت اس بار بھی شرکت سے جان چھڑانے کے لیے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرنے لگا مگر اسے یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر ٹیم نہ بھیجی تو پاکستان بھی بھارتی میدانوں میں شیڈول اگلے تین ایونٹس کا بائیکاٹ کرسکتا ہے۔
ان میں آئندہ برس شیڈول ایشیاء کپ اور ویمنز ورلڈ کپ بھی شامل ہیں، 2026ء میں بھارت کو ٹی 20 ورلڈکپ کی بھی میزبانی کرنا ہے، گذشتہ برس بلیو شرٹس کے ایشیاء کپ کیلیے پاکستان آنے سے انکار پر پی سی بی نے بھی ون ڈے ورلڈکپ کیلیے ٹیم نہ بھیجنے کی دھمکی دی جو ہوائی فائر ثابت ہوئی، مگر اس بار بی سی سی آئی کو خوف ہے کہ پاکستان اپنی دھمکی کو عملی جامہ بھی پہنا سکتا ہے۔
بی سی سی آئی کے ایک ٹاپ آفیشل نے بھارتی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم پاکستان نہیں جاتے تو وہ ایشیاء کپ میں شرکت سے انکار کرسکتے ہیں، مگر پی سی بی کو بھی سمجھنا چاہیے کہ پاکستان جانے یا نا جانے کا فیصلہ کرنا بھارتی کرکٹ بورڈ کے اختیار میں نہیں ہے، کسی دوسرے ملک میں ٹیم بھیجنے کیلئے بی سی سی آئی کو حکومتی منظوری درکار ہوتی ہے، ہم چیمپئنز ٹرافی کیلئے بھی حکومت سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں مگر ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ ہمارا موقف واضح ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے کلیئرنس نہیں ملتی تو پھر آئی سی سی کو ہمارے میچز کسی نیوٹرل وینیو پر منتقل کرنا ہوں گے، ہم ایک حکومتی آرگنائزیشن ہونے کے ناطے احکامات کے پابند ہیں
ایشیاء کپ 2025ء، بھارت کو پاکستان کے بائیکاٹ کا خدشہ ستانے لگا