شیخ حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے اپنی حکومت کی نااہلی اور عوام پر تشدد چھپانے کیلئے الزام پاکستان اور چین پر لگادیا۔
لندن میں مقیم سجیب واجد نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ بنگلا دیش کی موجودہ صورتحال کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے۔ ملک کو نہ سنبھالا گیا تو یہ بھی پاکستان بن سکتا ہے۔
حالانکہ سچ یہ ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت بدترین کرپشن کی وجہ سے بدنام ہوئی ۔ حسینہ واجد کے سات مشیر بینکوں کے سب سے بڑے ڈیفالٹر تھے۔ ان کے بیٹے وجیب سمیت 17رشتے داربھی حکومت کا اہم حصہ تھے۔
سجیب واجد پر 2016 ءمیں 300 ملین ڈالر کی کرپشن کا الزام لگا۔ سجیب نے امریکا میں بنگالی کاروباری شخصیات سے کنسلٹنسی کے نام پر پیسے لئے تھے۔ سجیب واجد حکومتی پراپیگنڈا کی ڈیجیٹل ٹیم کے سربراہ تھے۔
اپنی نااہلی ، عوام پر تشدد، لاقانونیت نظر نہ آئی ۔
بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے اور سیاسی مشیر سجیب واجد جوئے نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ان کی والدہ نے سیاست سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔
برطانوی ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں سجیب واجد نے بتایا کہ شیخ حسینہ واجد ملک کے حالات سے مایوس ہو چکی ہیں اور انہوں نے اپنے اہل خانہ کے اصرار پر ملک چھوڑ دیا ہے۔
سجیب واجد نے کہا کہ ان کی والدہ کو اس بات پر سب سے زیادہ مایوسی ہوئی کہ انہوں نے بنگلا دیش کے لیے بہت کچھ کیا، لیکن پھر بھی ایک اقلیت ان کے خلاف ہو گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیخ حسینہ واجد اتوار سے ہی استعفیٰ دینے پر غور کر رہی تھیں اور پیر کو بالآخر استعفیٰ دے کر بھارت روانہ ہو گئیں۔
انہوں نے اپنی والدہ کے دور حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حسینہ واجد نے بنگلا دیش کو ایک ناکام ریاست سے نکال کر ایشیا ءکے ابھرتے ہوئے ٹائیگرز میں شامل کیا۔ تاہم، حالیہ پرتشدد مظاہروں اور احتجاج کے بعد، ان کی والدہ بہت مایوس ہیں۔
انہوں نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا کہ حکومت نے مظاہرین کے ساتھ سختی سے نمٹا۔ سجیب واجد کے مطابق، مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر حملے کیے، جس کا ردعمل لازمی تھا۔
خیال رہے کہ بنگلا دیش کے آرمی چیف جنرل وقارالزمان نے عبوری مخلوط حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتیں شامل ہوں گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں شدید احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں۔
شیخ حسینہ واجد نے پیر کو اپنی حکومت کے خلاف ملک گیر پرتشدد مظاہروں کے بعد وزیراعظم ہاؤس چھوڑ دیا تھا اور بعد ازاں وہ بھارت روانہ ہو گئیں۔ بنگلادیش کی فوج نے ایک عبوری حکومت کے قیام کا منصوبہ پیش کیا ہے جس میں سیاسی جماعتیں شامل ہوں گی۔
اتوار کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 95 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 14 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ ان جھڑپوں میں مخالف فریقین لاٹھیوں اور چاقوؤں سے لڑتے رہے اور سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی۔
جولائی میں شروع ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک کم از کم 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔شیخ حسینہ واجد کا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ بنگلہ دیش کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔