پاکستان کی انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جمعرات کے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 9 پیسے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ڈالر 278.64 روپے پر بند ہوا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں یہ اضافہ متوقع تھا کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس کے علاوہ ملک میں جاری سیاسی اور معاشی عدم استحکام بھی روپے کی قدر پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت کو اس وقت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں قرضوں کی واپسی، مہنگائی، اور تجارتی خسارے جیسے مسائل شامل ہیں۔
اس صورتحال میں ڈالر کی قدر میں اضافے سے درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے فوری طور پر مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے بعد پاکستان کو کچھ مالیاتی امداد ملی ہے، لیکن اس کے باوجود روپے کی قدر میں مزید کمی کا خدشہ برقرار ہے۔
ملک کی مجموعی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کو طویل المدتی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
ڈالر کی قدر میں اضافے کے ساتھ ہی معاشی ماہرین اور کاروباری حلقے حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے، جس کے ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔