سابق آئی جی جیل خانہ جات پنجاب مرزا شاہد سلیم بیگ کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ مرزا شاہد سلیم بیگ کچھ روز قبل بیرون ملک سے واپس آئے تھے۔
ذرائع کے مطابق مرزا شاہد سلیم بیگ دو تین روز گھر والوں کے ساتھ کوئی رابطے میں نہیں تھے، ان کا موبائل فون مسلسل بند مل رہا تھا۔ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اکرم کے بعد بھی دو جیل افسران کو حراست میں لیا گیا۔
یاد رہے سابق آئی جی جیل مرزا شاہد چار سے پانچ سال تک جیل خانہ جات کے آئی جی تعینات رہے۔
واضح رہے سابق وزیراعظم عمران خان کیساتھ سہولت کاری کے الزام میں جیل کے دو سابق افسروں کو تحویل میں لے کر پوچھ گچھ شروع کی گئی۔ دونوں افسروں پر جیل مینوئل سے ہٹ کر سہولیات فراہم کرنے کا الزام ہے، تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم اور اسسٹنٹ بلال کو 20 جون کو عہدے سے ہٹا کر آئی جی آفس جیل خانہ جات رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم اڈیالہ جیل کی کالونی میں ہی رہائش پذیر تھے۔ سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم پر بانی پی ٹی آئی کی سہولت کاری کا الزام تھا۔
سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم اور اسسٹنٹ بلال کے کردار کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ تحقیقات کے بعد سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم، اسسٹنٹ بلال کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل محمد اکرم بانی پی ٹی آئی کی سکیورٹی سپر ویژن پر تعینات تھے۔ ان کو براہ راست ان کے سیل تک رسائی حاصل تھی۔
ذرائع کے مطابق ان دونوں افسروں سے بانی پی ٹی آئی کیساتھ رابطوں کی نوعیت جیل مینوئل سے ہٹ کر سہولیات کی فراہمی اور دیگر رابطوں سے متعلق سوالات کئے گئے ہیں۔ محکمہ جیل خانہ جات نے اس حوالے سے کوئی بھی موقف جاری نہیں کیا۔