چیئرمین پی سی بی کا ٹیم کی کارکردگی پر اظہار تشویش

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی کارکردگی گذشتہ ایک سال سے مایوس کن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ ایک رات میں مسائل حل کر دیں، لیکن وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ٹیم کو بہتر بنایا جائے۔

بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت:

پیر کو ایک پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت بلوچستان کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں کو بھرپور جواب دیا جائے گا اور بلوچستان کی حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی:

محسن نقوی نے تصدیق کی کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کے حملے کے دوران 14 جوان شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے عزائم کچھ اور تھے، لیکن ہمارے سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

دہشتگردی کے خلاف حکومت کا مؤقف:

محسن نقوی نے واضح کیا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان کی حقیقی قیادت کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے، لیکن جو لوگ دہشتگردی میں ملوث ہیں، ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ دہشتگرد ہیں اور ان سے اسی طرح نمٹا جائے گا۔

ناراض بلوچ اور دہشتگردوں کے درمیان فرق:

محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی ناراض بلوچ نہیں ہیں، بلکہ یہ سب دہشتگرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کیے جائیں گے، لیکن دہشتگردوں کو اسی طرح جواب دیا جائے گا جیسے دہشتگردوں کو دیا جانا چاہیے۔

کرکٹ ٹیم کی بہتری کے اقدامات:

محسن نقوی نے بتایا کہ جب انہوں نے چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سنبھالا تو کچھ لوگ چاہتے تھے کہ وہ فوراً استعفیٰ دے دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضرور جائیں گے، لیکن پہلے سسٹم کو درست کر کے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی بہتری کے لیے طویل المدتی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جلد ہی ان کے نتائج نظر آئیں گے۔

ٹیم میں بہتری کے لیے نئے ناموں کا اضافہ:

محسن نقوی نے کہا کہ وقار یونس نے ہماری معاونت کی ہے اور اب ہم نے ثقلین مشتاق، مصباح الحق، محمد سرفراز اور شعیب ملک جیسے کھلاڑیوں سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے آنے سے ٹیم میں بہتری آئے گی اور ٹیم کے لیے مزید کھلاڑیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

ڈومیسٹک کرکٹ کی مضبوطی:

محسن نقوی نے بتایا کہ ہم ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط بنا رہے ہیں اور 100 سے 150 کھلاڑیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جس سے سلیکشن کمیٹی کے لیے اچھے کھلاڑیوں کا انتخاب آسان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ آج ہی ٹیم سے چند کھلاڑیوں کو نکال دیا جائے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس متبادل کھلاڑیوں کی کمی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ میں نے جب بطور چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو چند روز بعد ہی کچھ افراد نے کوشش شروع کردی کہ میں استعفیٰ دوں اور چلا جائوں لیکن میں نے ایسی باتوں پر کان نہیں دھرے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں یہ عہدہ ضرور ایک نہ ایک دن چھوڑوں گا لیکن انشاءاللہ نظام کوکو ایک بار ضرور ٹھیک کردوں گا۔

بلوچستان میں بیرونی عناصر کی مداخلت:

محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے بیرونی عناصر بھی کار فرما ہیں اور انہیں بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالیہ حملے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے گئے ہیں اور یہ سیکیورٹی یا انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں:

محسن نقوی نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشتگردی کے پیچھے افغانستان میں موجود ان کا ہیڈکوارٹر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو ہم نے خود چھوڑا تھا اور وہی دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں، لیکن بلوچستان میں حالیہ کارروائیوں میں دیگر قوتیں بھی ملوث ہیں

Leave a Comment