بجلی کی قیمت میں ایک روپے 90 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس پر نیپرا نے تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی ہے۔
تقسیم کار کمپنیوں نے گذشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کے حوالے سے یہ درخواست دی تھی، جس میں انہوں نے 46 ارب 99 کروڑ روپے کی اضافی رقم صارفین سے وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے۔
اس درخواست میں کمپنیوں نے مختلف مدات میں رقوم کا مطالبہ کیا ہے، جن میں 22 ارب 86 کروڑ روپے کیپسٹی پیمنٹس، 4 ارب روپے آپریشنز اینڈ مینٹیننس، 7 ارب 51 کروڑ یوز آف سسٹم چارجز اینڈ مارکیٹنگ فیس، اور 10 ارب 80 کروڑ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن لاسز شامل ہیں۔
سماعت کے دوران، نیپرا حکام نے انکشاف کیا کہ بعض تقسیم کار کمپنیاں لوگوں کو نیٹ میٹرنگ سے روک رہی ہیں۔
ممبر سندھ نیپرا، رفیق شیخ، نے اس پر استفسار کیا کہ کونسی کمپنیاں ایسا کر رہی ہیں؟ نیپرا حکام کے مطابق، گیپکو اور پیسکو نے نیٹ میٹرنگ کے کنکشن دینے سے منع کیا ہے۔
نیپرا کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، تاہم چیئرمین نیپرا نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سہ ماہی اور فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی کا امکان ہے، جس سے عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔