وفاقی وزیر برائے بجلی اویس لغاری نے اعلان کیا کہ حکمران مخلوط حکومت بجلی کے لیے پری پیڈ میٹر سسٹم متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پری پیڈ میٹر سسٹم موبائل فونز کے لیے استعمال ہونے والے پری پیڈ سسٹم کی طرح ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی چوری کے خاتمے اور صارفین کے لیے سہولت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ صارفین کو 45 ارب روپے کے ریلیف پیکج کی موثر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ مجوزہ پری پیڈ میٹر سسٹم صارفین کو بجلی کی پیشگی ادائیگی کرنے کی اجازت دے گا، جس سے چوری اور ڈیفالٹ ادائیگیوں کے خطرات کم ہوں گے۔
اویس لغاری نے حکومت کے وسیع تر توانائی اصلاحات کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کو ایک تجویز بھی شامل ہے۔ ان اصلاحات میں 8.5 سے 9 بلین ڈالر کے قرض کی ری پروفائلنگ شامل ہے، جس سے بجلی کی قیمتوں میں کمی اور طلب میں اضافے کی توقع ہے۔
اصلاحات کا ایک اور اہم پہلو بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو درآمدی کوئلے سے مقامی کوئلے میں تبدیل کرنا ہے۔ اس اقدام کا، جس میں حکومت کے زیر ملکیت جامشورو پلانٹ شامل ہے، کا مقصد بجلی کی لاگت کو تقریباً 24 روپے فی یونٹ سے کم کر کے تقریباً 8 روپے فی یونٹ تک لانا ہے، جس سے صارفین کو خاطرخواہ بچت ہوگی