ساہیوال میں قتل کی لرزہ خیز واردات، سعودی عرب سے آنے والے شخص نے 2 بہنوں کو قتل کر دیا

ساہیوال میں قتل کی لرزہ خیز واردات، سعودی عرب سے آنے والے شخص نے 2 بہنوں کو قتل کر دیا، جائیداد کے تنازعے پر ملزم کم عمر بہنوں کو قتل کرنے کے بعد دوبارہ سعودی عرب واپس چلا گیا، والد اور والدہ نے بھی ملزم کی معاونت کی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے ضلع ساہیوال کے ایک دیہی علاقے میں سنگدل بھائی نے جائیداد کی لالچ میں اپنی کم عمر بہنوں پر بدچلنی کا الزام لگا کر انہیں لرزہ خیز انداز میں قتل کر ڈالا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 2 کم عمر لڑکیوں کے اپنے بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے کی واردات ساہیوال کے تھانہ نور شاہ کی حدود میں پیش آئی۔ انکشاف ہوا ہے کہ اپنی بہنوں کو قتل کرنے والا شخص سعودی عرب میں مقیم تھا جو صرف اپنی بہنوں کو قتل کرنے کیلئے پاکستان آیا اور پھر واردات کے بعد سعودی عرب واپس فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق 16 سالہ عائشہ اور اس کی 13 سالہ بہن فاطمہ کے قتل کا مقدمہ ان کے چچا کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

مقدمہ قتل کی واردات کے ایک ماہ بعد درج ہوا۔ درج مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302، 201، 109 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق قتل کا مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش کا آغاز کیا گیا تو تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے۔ انکشاف ہوا ہے کہ دونوں مقتولہ لڑکیاں اور ان کا قاتل بھائی آپس میں سوتیلے بہن بھائی تھے۔ علی حمزہ نامی قاتل کے والد نے 2 شادیاں کیں۔
ملزم علی حمزہ اپنے والد کی پہلی بیوی سے ہوا جبکہ مقتولہ لڑکیاں قاتل علی حمزہ کی سوتیلی والدہ سے ہوئیں۔ قاتل علی حمزہ کا اپنی سوتیلی بہنوں سے رویہ اچھا نہیں تھا، سوتیلے بھائی بہنوں کے درمیان جائیداد کا تنازعہ بھی چل رہا تھا۔ قتل کر دیے جانے والی 16 سالہ عائشہ اور اس کی 13 سالہ بہن فاطمہ کو اپنے والد کی جائیداد سے نصف حصہ ملنا تھا۔
تاہم جائیداد کے لالچی بھائی علی حمزہ نے اپنی بہنوں پر بدچلنی کا الزام لگاتے ہوئے والدین کو راضی کیا کہ اگر بہنوں کو قتل نہ کیا گیا تو خاندان میں بدنامی ہو گی۔ بعد ازاں قاتل علی حمزہ نے رات کو اپنے بستر پر سو رہی بہنوں کو ان کی نیند میں ہی لوہے کی راڈ کی مدد سے ظالمانہ انداز میں قتل کر ڈالا۔ قتل کی واردات کے بعد علی حمزہ نے اپنی والدہ اور والد کے ساتھ مل کر گھر سے 12 کلومیٹر دور جا کر دریائے راوی میں اپنی بہنوں کی لاشیں پھینک دیں۔ پولیس کے مطابق تفتیش میں ہونے والے انکشافات کے بعد مقتولہ لڑکیوں کے والد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جبکہ مرکزی ملزم علی حمزہ کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Leave a Comment