دستاویزات کے مطابق گذشتہ دس سالوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چار گورنرز نے مجموعی طور پر 29 کروڑ 73 لاکھ 60 ہزار روپے تنخواہ کی مد میں وصول کیے ہیں۔
اسلام آباد سے سنو نیوز کی نمائندہ سمیرا راجا کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ تنخواہ موجودہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی ہے، جو ماہانہ 40 لاکھ روپے وصول کر رہے ہیں، جبکہ ان کے معاہدے کے تحت ہر سال 10 فیصد اضافے کی شق بھی شامل ہے۔ جمیل احمد نے دو سالوں کے دوران 11 کروڑ 52 لاکھ روپے تنخواہ وصول کی ہے۔
سابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ 25 لاکھ ماہانہ تھی، اور انہوں نے اپنے تین سالہ دور میں 9 کروڑ روپے وصول کیے۔
اس سے پہلے طارق باجوہ جولائی 2017 سے مئی 2019 تک گورنر رہے، اور انہوں نے 14 لاکھ 40 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ وصول کی، جس کے نتیجے میں 2 سال 10 ماہ کے دوران 4 کروڑ 89 لاکھ 60 ہزار روپے کمائے۔ اس سے قبل اشرف محمود کا دور 3 سال پر محیط تھا، اور ان کی تنخواہ 12 لاکھ ماہانہ رہی، جس کے نتیجے میں انہوں نے 4 کروڑ 32 لاکھ روپے وصول کیے۔
دستاویزات کے مطابق گورنرز کو تنخواہوں کے علاوہ بے شمار مراعات بھی فراہم کی جاتی ہیں، جن میں فرنشڈ گھر یا اس کے متبادل بھاری رقم، دو لگژری گاڑیاں، ڈرائیورز، 1200 لیٹر ماہانہ پیٹرول، اور رہائش گاہ کے جنریٹر کا پیٹرول شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بجلی، پانی، گیس، موبائل فون، ٹیلی فون، اور انٹرنیٹ کی لامحدود سہولت بھی مفت فراہم کی جاتی ہے۔ گورنر کے بچوں کی 75 فیصد اسکول فیس بھی سرکاری طور پر ادا کی جاتی ہے۔
میڈیکل، تفریحی، اور ٹریولنگ الاؤنس کے ساتھ ساتھ، گورنر کو کلب کی ممبرشپ اور ریٹائرمنٹ پر گریجویٹی و پراویڈنٹ فنڈ جیسی سہولیات بھی میسر ہیں