سوشل میڈیا پر جسٹس منصور علی شاہ کی تقرری کا نوٹیفکیشن وائرل ہو گیا ہے۔ تاہم حکومتی ترجمان نے اس کوجعلی قرار دے دیا ہے۔
تفصیل کے مطابق حکومتی ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جسٹس منصور علی شاہ کی تقرری کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کر دی ہے۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک نوٹیفکیشن تیزی سے وائرل ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ کو کسی اعلیٰ عدالتی عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ تاہم، حکومتی ذرائع نے اس دعوے کو مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی جعلی خبریں اور نوٹیفکیشنز عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں اور یہ عمل غیر ذمہ دارانہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے مواد کو بغیر تحقیق کے شیئر کرنا معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا کر سکتا ہے، اس لیے عوام سے گزارش ہے کہ وہ سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات پر بھروسہ کریں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت اور عدلیہ کے حوالے سے ایسی غلط خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کی گمراہ کن معلومات کا سدباب کیا جاسکے۔ انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو بھی ہدایت کی کہ وہ غیر مصدقہ مواد کو شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کریں اور کسی بھی نوٹیفکیشن کی تصدیق کے لیے مستند ذرائع پر اعتماد کریں۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کے جعلی نوٹیفکیشنز گردش کر رہے ہوں۔ موجودہ دور میں، جہاں سوشل میڈیا کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے، ایسی خبریں تیزی سے پھیل جاتی ہیں اور عوام کو غلط اطلاعات فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
حکومت نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ اس معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی خبر کی تصدیق کے لیے مستند ذرائع پر انحصار کریں تاکہ ملک میں افواہوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے